اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

انوکھی سوچ

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

سر گنگا رام کا نام آپ سب نے سن رکھا ہوگا وہ ایک سیول انجینر تھے اس کے علاوہ وہ رفاعی کاموں کی وجہ سے بھی جانے جاتے تھے لاہور کے ساتھ ایک علاقہ رنیالہ خورد واقع ہے یہ بنجر اور ریگستانی علاقہ تھا اس علاقے میں انگریز حکومت نے سر گنگا رام کی خدمات کے صلے میں پچپن ہزار ایکڑرقبہ الاٹ کیا گیا سر گنگا رام نے اسے آباد کرنے کا فیصلہ کیا

اس علاقے کے قریب سے ایک نہر گزرتی تھی لیکن اس کے پانی سے اس سیراب نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ نہراس زمین سے تقریباً بیس فٹ نیچے تھی تو سر گنگا رام نے اس کا حل نکالا اور نہر کے پانی کو پمپ اسٹیشن کے ذریعے اوپر چڑھانے کا منصوبہ بنایا اس منصوبے کے لیے تین مقامات پرپمپنگ اسٹیشن بنائے گئے اس مقصد کیلئے لور باری دو آب کنال سے پانی لایا گیا اور پمپ کے ذریعے چھبیس فٹ اوپر چڑھایا گیا لیکن ایک سوال تھا اس اسٹیشن کو چلانے کیلئے بجلی کہاں سے آئے گئی تو حل بھی اسی پانی سے نکالا گیا ۱۹۲۵میں لاہور سے نوے کلومیٹر کے فاصلے پر رینالہ خورد میں اسی نہر پر ایک بجلی گھر قائم کیا گیا جو اس پمپ اسٹیشن کو چلاتا بھی تھا اور ایک میگا واٹ بجلی پیدا کرتا تھا یہ بجلی گھر آج بھی چل رہا ہے جس نام گنگا رام پاور اسٹیشن ہے جس میں چار ٹربائین ابھی تک چل رہی ہیں یہ اس بندے کی انوکھی سوچ تھی کہ جس نہر کا پانی پمپ سے آٹھانا ہے اسی کے چلتے ہوئے پانی سے بجلی پید کی جا سکتی ہے اس انوکھی سوچ کا نتیجہ ۱۹۲۵سے آج تک ہماری نیشنل گریڈ میں ایک میگا واٹ بجلی شامل کر رہا ہے ابھی تک سر گنگا رام کی لگائی ہوئی مشینری کام کرُرہی ہے اور اس کی لاگت پر یونٹ ایک روپیہ ہے جب کہ نیشنل گرڈ میں بجلی کی کاسٹ پندرہ روپے آتی ہے پورے پنجاب میں ایسی کئی نہریں موجود ہیں جن پر ایسے کئی چھوٹے پراجیکٹ لگائے جاسکتے ہیں

پنجاب حکومت نے پراجیکٹ ایوایشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق ایسی 36سائٹ کی نشاندہی کی جاچکی ہے جہاں ایسے پراجیکٹ لگائے جا سکتے ہیں جو ایک ہزار میگا وآٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایسی کئی نہروں اور بیراجوں کے پانی سے بجلی بنائی جاسکتی ہے ایسا ہی ایک نسبتا بڑا بیس میگاواٹ کا بجلی گھر اپر جہلم کنال پر منڈی بہاولدین میں قائم ہے لیکن حکومتی عدم توجہگی اور محکمانہ غفلت کی وجہ سے بند پڑا اور ٹربائن سسٹم اور موٹر ناکارہ ہوچکی ہے تقریباً بیس سال پہلے یہ بجلی گھر پورے ضلع کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرتا تھا اس کی بھی یونٹ کاسٹ ایک روپیہ سے کم تھی قیام پاکستان سے پہلے۱۹۱۴میں دریائے سوات پر ایم ایسا ہی چھوٹا منصوبہ لگایا گیا پہاڑ میں سرنگ کھود کر دریائے سوات کا پانی اس میں ڈالا گیا اس پر چار ٹربائن لگا کر بجلی پیدا کی گئی ۱۹۳۷میں جبن ہایڈرو پراجیکٹ کا منصوبہ بنایا گیا آج کل دوبارہ اس کی بحالی پر کام ہو رہا ہے انگریز کی سوچ ، چائنہ کی ٹیکنالوجی، فرانس کا پیسہ اور لاہور کا کنٹریکٹر لیکن بجلی پورے پاکستان کئےلئے۔ یہ ہے طریقہ اکیسویں صدی میں اپنے مسائل کے بحران کو حل کرنے کا جبن ہایڈور پراجیکٹ سے نیچے ڈھائی سو فٹ کے فاصلے پر اسی پانی کو ایک بار پھر در گئی پاور ہاؤس کی چار اور ٹربائین سے گزار کر بیس میگا وآٹ بجلی پیدا کی گئی ہے یہ پاورہاوس ۱۹۵۲میں بنایا گیا دریائے سوات کا تین ہزار کیوسک پانی دریا کابل میں گرنے سے پہلے بار بار مختلف پاور ہاؤسزسے گزارنے کے بعد ایک سو بیس میگا واٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے

اور اس کی لاگت ایک روپے فی یونٹ سے کم خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کے مطابق اس صوبے کے پہاڑی علاقوں میں بجلی پیدا کرنے کا اتنا پوٹیشنل ہے کم و بیش پچیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ایک چھوٹے سے پاور ہاؤس سے پاکستان میں بجلی کی پیداوار کی شروعات ہوئی تھی یہ وہی سوچ تھی جو آج بھی کارآمد ہے اور ہمیں اس بحران سے نکال سکتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…