بابا فرید رحمتہ اللّہ علیہ اپنی ایک مجلس میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ غمِ فرقت اور حالتِ ہِجر و فراق میں مجنُوں کا بُرا حال ہو گیا محبّت نے شِدّت اِختیار کر لی تھی مجنُوں لیلیٰ کے اشتیاق میں ہر وقت اسی کا ذِکر کرتا رہتا تھا اسی کے لیے روتا اور تڑپتا رہتا تھا محبّت کے جوش اور عِشق کے شعلوں نے جب زور پکڑا
تو مجنُوں کے اہلِ خاندان بے بس اور مجبور ہو گئے اور ان کے پاس اس کے سِوا کوئی چارۂ کار نہ رہا کہ لیلیٰ کے قبیلے والوں سے کہا جائے کہ: وہ مجنوں کو ایک بار لیلیٰ کا دیدار کرا دیں تاکہ اس کی آتشِ عِشق ٹھنڈی پڑ سکے چنانچہ جب لیلیٰ کے خاندان والوں کو یہ کہا گیا تو انہوں نے بالآخر اُن کی درخواست منظور کر لی لیکن اُنہیں سمجھایا کہ ہم تو لیلیٰ کو مجنوں کے سامنے لے آئیں گے مگر مجنُوں اس دیدار کو برداشت نہ کر سکے گا لیکن انہوں نے اِصرار کِیا کہ کوئی بات نہیں اس کے ہم ذمہ دار ہیں آپ لیلیٰ کو ایک بار دِکھا دیں کہتے ہیں کہ جب وہ لوگ مجنُوں کو لیلیٰ کے حرم میں لے گئے اور لیلیٰ کو پردے میں اس کے قریب لایا گیا ابھی اس کا سراپا سامنے نہیں آیا تھا فقط لیلیٰ کے جِسم کا سایہ مجنُوں نے دیکھا بس سائے پر نظر پڑی تھی کہ مجنُوں بے ہوش ہو کر زمین پر گِر پڑا اور تڑپنے لگا اور اس وقت تک ہوش میں نہ آ سکا جب تک لیلیٰ کو وہاں سے واپس نہیں لے جایا گیا یہ مجنُوں کی مجازی محبّت کی ایک جھلک تھی جو محبوب کا دیدار تو کجا اس کا سایہ دیکھ کر ہی بے ہوش ہو جاتا تھا اِس واقعہ کے راوی کہتے ہیں کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اللّہ علیہ نے جب مجنُوں کی یہ بات بتائی تو خود اُن کی ایک بلند چیخ نِکلی اور بے ہوش ہو گئے۔



















































