لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ایلیٹ سپیشل فورسز سب سے بہترین اور سخت تربیت کی حامل فورسز ہوتی ہیں جو کسی بھی ملک کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس میں شامل فوجی وہاں بھی پہنچ جاتے ہیں جہاں عام فوجی نہیں جا سکتا۔ یہ سٹریٹجک ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں اور انتہائی باہمت ریسکیو مشن بھی سرانجام دیتے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک کی افواج نے سپیشل فورسز بنا رکھی ہیں اور اگرچہ ان کی درجہ بندی انتہائی مشکل کام ہے تاہم ان کے ماضی کے ریکارڈز کو دیکھتے ہوئے
غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ایک فہرست مرتب کی ہے جس میں پاکستان کو آٹھواں نمبر دیا گیا ہے اور اگر اس کی تاریخ دیکھی جائے تو اس نے یہ پوزیشن حاصل کر کے ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو ثابت کر دیا ہے اور یہ بتا دیا ہے پاک فوج ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر سکتی ہے تاہم اس فہرست میں پانچویں نمبر پر جس فورس کو رکھا گیا ہے اس میں کا نام نیشنل جیندار میری انٹروینشن گروپ ہے۔ نیشنل جیندار میری انٹروینشن گروپ (جی آئی جی این) اخبار کے مطابق دنیا کی بہت کم سپیشل فورسز اس گروپ کے مقابل آ سکتی ہیں۔ اس گروپ کو خاص طور پر ایسے حالات سے نبردآزما ہونے کیلئے تیار کیا جاتا ہے جہاں دہشت گرد لوگوں کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ اس گروپ کا دعویٰ ہے کہ یہ 1973ءسے لے کر اب تک 600 سے زائد افراد کو رہا کروا چکا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس گروپ کے ممبران کے چہروں کی تصاویر جاری کرنا فرانس میں غیر قانونی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس گروپ کا سب سے بہترین کارنامہ مکہ میں سعودی فوج کے آپریشن میں مدد کرنا ہے۔ چونکہ غیر مسلم وہاں داخل نہیں ہو سکتے تھے اس لئے اس گروپ کے 3 کمانڈوز نے اسلام قبول کیا اور پھر سعودی فوج کی مدد کی۔



















































