اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

شیطان کو راضی کرکے

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

آج پھر وہ ہمیشہ کی طرح مسجدکے سامنے سے نظریں چراتا ہوا گزرا تھا۔ بہت سے نمازی اسکے سامنے مغرب کی نماز پڑھنے مسجد میں داخل ہوئے تھے۔لیکن وہ یہ سوچتا ہوا مسجد میں نہ گیا کے تو اللہ کے محبوب بندے ہیں۔ اللہ انہیں نوازتا ہے اور یہ یہاں آکر اسکا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔

روزکی طرح آج بھی وہ شیطان کو راضی کرکے وہاں سے گزر گیا۔ وہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا ایک حساس بچہ تھا۔اور ہمیشہ سے اسے اپنے رب سے یہی شکایت تھی کے وہ اس سے پیار نہیں کرتا تبھی تووہ اتنا غریب ہے۔ اس کے ہم عمر بچے جب اسکول جاتے تھے۔اور وہ اپنے ابو کے ساتھ کام پر جاتا تھا۔ اپنے دل میں ہمیشہ سے غلط خیال پیدا کر کے وہ آج اتنا بڑا ہو چکا تھا۔لیکن اسکے حالات میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کے جو وہ اپنے گھر چاہے سوکھی روٹی ہی کیوں کھارہا ہو۔وہ رزق بھی اللہ نے ہی اسے دیا ہے۔روزانہ صبح کام پر جاتا اور مغرب کے وقت گھر میں داخل ہوتا تھااور جو کماتا وہ روز کے کھانے کے لئے کافی ہوتا تھا۔بہت سے لوگوں کو اسنے اپنی زندگی میں اچھا کھاتے اچھا پہنتے دیکھا تھا۔لیکن ایک ہی بات سوچتا تھا کے یہ اللہ کو پسند ہونگے اسی لئے اللہ نے اسے بہت دیا ہے اور جب مجھے کچھ دیا ہی نہیں تو میں اس کے گھر کیوں جاؤں۔کیوں نماز پڑھوں۔دل میں ایسا سوچتا تھا اور عمل بھی کرتا تھا۔ آج اسکی طبیعت خراب تھی اس لئے کام سے جلد ہی گھر جانے کے لئے نکلا۔ اسی مسجد کے سامنے سے گزر رہا تھا کے اس نے اپنے پاؤں میں ایک نوکیلی چیز چھبتی ہوئی محسوس کی۔ سی۔۔۔۔کی آوازکے ساتھ اس نے جلدی سے پاؤں اوپر اٹھایا تو دیکھا ایک بہت بڑا کانچ کا ٹکڑا اسکے پاؤں میں چبھا ہوا ہے۔ ادھر ادھر بیٹھنے کے لئے کوئی صاف جگہ ڈھونڈی لیکن وہاں مسجد کے باہر کی سیڑھیوں کے علاوہ اسے کوئی جگہ نظر نہ آئی۔

اس لئے بے دھیانی میں وہ وہاں جاکر بیٹھا۔ بہت دقت کے بعد اس نے وہ کانچ کا ٹکڑا اپنے پاؤں سے آزاد کیا لیکن ساتھ بہت سارا خون اسکے پاؤں سے نکلنا شروع ہوگیا۔خون روکنے کے لئے اس نے زخم والی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا لیکن خون بہت تیزی سے باہر آرہا تھا اور درد کی لہر نے اسے پوری طرح جکڑ لیا تھا۔ نہ تو ہل سکتا تھا نہ کہیں جا سکتا تھا۔ چند سیکنڈ ہی گزرے تھے کے کوئی شخص مسجد میں داخل ہورہا تھا اور اسے وہاں بیٹھے دیکھا تو جلدی سے اسکے پاس آیا۔بھائی صاحب خیر تو ہے۔آپ یہاں بیٹھے ہیں۔ کہتے ہوئے اسکی نظر اسکے پاؤں پر پڑی تو اسکو مسجد سے پانی لاکر دیا تاکہ زخم پر ڈال سکے لیکن زخم پر پانی پڑنے سے ایک جلن ہونا شروع ہوگئی۔ آپ ایسا کرو میرے ساتھ اندر چلو پھر اندر جاکر پٹی باندھ لینگے۔ کوئی بھی اندر آپ کی مدد کر دیگا اور آگر کوئی نہیں تو جسکا گھر ہے وہی تمہاری مشکل آسان کر دیگا۔ اب وہ کیا کرتا اندر جا بھی نہیں سکتا تھا اور نہ اسکو منع کر سکتا تھا اور پھر پاؤں سے بہتا ہوا خون۔ اسے نہ چاہتے ہو ئے بھی اندر جانا پڑا۔ اسکو ایک جگہ بٹھا کر وہ شخص وضو خانے کی طرف بڑھ گیا اور نمازپڑھ کر اسکی طرف واپس آیا۔ معاف کرنا۔ نماز کی دیر ہورہی تھی اس لئے آپ کو پٹی نہیں کر سکا۔ ساتھ میں ایک بڑی پٹی بھی لایا تھا۔ جب اس شخص نے اسکے پاؤں میں پٹی باندھی تو تھوڑا اسے سکون آیا تھا لیکن چل پھر نہیں سکتا تھا اس لئے وہی بیٹھا رہا۔ تھوڑی دیر میں بہت سے لوگ ایک جگہ دائرہ بنا کر بیٹھ گئے تھے۔

وہ ان سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھا تھا۔ پھر وہاں بیان شروع ہوچکا تھا لیکن اسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لئے ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا۔ آپ کو جو چاہیے اور وہ آپکومانگنے پر بھی نہ ملے تو سمجھ لینا کے وہ آپکے لئے بہتر نہیں ہے۔ آپکے لئے اس سے بہتر رکھاگیا ہوگا۔ مولانا صاحب کی آواز اسکے کانوں میں گونجی تھی۔لیکن اس نے سر جھٹک کر پھر سے آنے جانے والے لوگوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا۔ ہم نماز اسلئے نہیں پڑھتے کے وہ ہماری نمازوں کا بھوکا ہے؟بلکہ ہم نماز اس لئے پڑھتے ہیں کے وہ ہمارے لئے ضروری ہے۔وہ ہماری اللہ کی طرف سے دی گئی آزمائش ہے۔فرشتے دن رات اللہ کی عبادت کرتے ہیں لیکن اللہ کو ہماری صرف پانچ دس منٹ کی نماز پسند ہے جسمیں نہ کوئی دکھاوا ہو اور نہ کوئی مطلب۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے انکی بات غور سے سنی تھی۔ مولانا صاحب رکے تو وہ بھی ایک دم چونکا تھا لیکن پھر سے مولانا کے بولنے کا انتظار کرنے لگا۔ روزے رکھنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کے آپ کچھ نہ کھاؤ۔ اس میں ہماری آنکھیں ۔ناک کان زبان سب کا روزہ ہونا چاہیے ۔روزہ رکھنے سے ہمارے جسم کی زکوٰۃ ادا ہوتی ہے۔مولانا کی آواز کا ہی تاثر تھا کے وہ اپنے آپ کو تھوڑا گھسیٹتا ہوا دائرے کے تھوڑا اور قریب آگیا تھا۔ کیونکہ وہ جو سمجھتا تھا اللہ اس سے پیار نہیں کرتا تو ایسا نہیں تھا وہ اپنے بندہ سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے۔ اسے یاد آیا کے اس نے کبھی بھی فاقہ نہیں کیا۔ کم کھایا لیکن کبھی بھوکا نہیں سویا۔

رزق دینے کی ذات صرف اللہ کی ہے۔کس کو کتنا دینا ہے یہ سب بھی اللہ کو پتا ہے تو پھر وہ کیوں اللہ کے اتنا خلاف ہو گیا بلکہ شکر ادا کرنے کے بجائے اس نے اپنے آپ کو ایک گناہ کے دلدل میں ڈال دیا۔ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک آدمی مسجد میں پکوانے کے لئے کچھ کچے چاول لایا تھا اور اس میں سے کچھ دانے زمین پر گر گئے تھے۔جو کے اس نے نظر اندازکر دیئے تھے لیکن ابھی ایک چڑیا ان دانوں کو آکر چگ رہی تھی۔ جب سارے کھا لئے تو وضو خانے کی طرف گرا پانی پی کر گردن تھوڑی اوپر کررہی تھی۔جب وہ چڑیا ایک جانور اللہ کا شکر ادا کر سکتا ہے تو پھر تو میں انسان ہوں سمجھدار ہوں ۔میں کیسے شیطان کے بہکاوے میں آسکتا ہو۔آگر وہ دانے یہاں نہ گرتے تو وہ چڑیا نہ کھاتی لیکن اللہ کو سب پتا ہے۔اسی نے اس چڑیا کا رزق یہاں لکھا تھا۔ اس نے اپنے پیچھے صرف اپنے گناہ چھوڑے تھے۔وہ اس وقت جہاں تھا اسے یاد نہیں پڑتا تھا کے اس نے کبھی کوئی اچھا کام کیا ہو۔لیکن اسے اپنے آنے والے دنوں کو اچھا بنانا تھا۔ مغرب کی نماز کا ٹائم تھا اور درد ہونے کے باوجود وہ نماز ادا کرنے جارہا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…