بنی اسرائیل کا ایک عبادت گزار تھا، اس نے پانچ سو سال تک اللہ کی عبادت کی، اس کو اللہ رب العزت کے حضور پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس کو میری رحمت سے جنت میں داخل کر دو، وہ کہے گا: اللہ! میں نے تو پانچ سو سال عبادت بھی کی ہوئی ہے،
اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اچھا! اب اس بندے کو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے پیاس لگا دیں گے، اس کی وہ پیاس برداشت سے باہر ہو جائے گی، وہ ادھر ادھر پانی تلاش کرے گا، اس اضطراب کی حالت میں ایک فرشتہ پانی کا پیالہ لے کر اس کے سامنے آئے گا، وہ پانی دیکھ کر اپنے بس میں نہیں رہے گا، کہے گا، پانی دے دو، فرشتہ کہے گا: اس کے بدلے میں قیمت ادا کرو، پوچھے گا: کتنی قیمت؟ فرشتہ کہے گا: اتنے سال کی نیکیاں، وہ کہے گا، نہیں، پھر فرشتہ کہے گا، اتنے سال کی نیکیاں، ادھر پیاس بڑھتی جائے گی اور فرشتہ نہیں نہیں کہتا رہے گا، حتیٰ کہ کرتے کرتے ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ یہ کہے گا کہ میں پانچ سو سال کی عبادت کی نیکیاں دیتا ہوں مجھے پانی کا ایک پیالہ پینے دو، تب پروردگار فرمائیں گے، میرے بندے! تیرے پانچ سو سال کی نیکیاں میرے پانی کے ایک پیالے کی قیمت نہ بن سکیں اور تو نے تو زندگی میں کتنے پیالے پانی پیا تھا، تو نے نعمتیں استعمال کی تھیں؟ تو کیسے کہہ سکتا ہے کہ تو نے میری نعمتوں کا حق ادا کر دیا ہے۔



















































