ایک بزرگ تھے کسی دکان پر سودا لینے گئے اور جب پیسہ دیے تو دکاندار نے کہا: بابا جی! یہ پیسے تو کھوٹے ہیں، بابا جی تو رونے لگ گئے، دکاندار نے کہا: آپ روئیں نہیں میں آپ کو ویسے ہی سودا دے دیتا ہوں، فرمایا نہیں نہیں مجھے سودے کی ضرورت نہیں، اتنا روئے، اتنا روئے کہ لوگ حیران، کسی نے کہا کہ بابا جی اتنا کیوں رو رہے ہیں؟ اگر وہ آپ کو سودا نہیں دیتا تو پیسے ہم ادا کر دیتے ہیں، آپ سودا لے جائیں، وہ کہنے لگے بچو! میں اس لیے نہیں رو رہوا کہ سودا نہیں ملے گا،
میں تو اس بات سے رو رہا ہوں کہ مجھے یہ خیال آیا کہ میرے پاس کچھ رقم تھی، میں اسے کھرا سمجھتا تھا، لیکن جب میں دکاندار کے پاس آیا تو دکاندار نے پرکھ کی اور کہا یہ سکے کھوٹے ہیں، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا: او بندے! آج اپنے جن عملوں کو تم کھرا سمجھتے ہو اگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے فرما دیا یہ کھوٹے ہیں تو پھر تمہارا کیا بنے گا، دنیا میں تو میں اور بھی پیسے لے لوں گا، سودا خرید لوں گا مگر آخرت میں تو اور عمل نہیں لا سکوں گا، مجھے تو آخرت یاد آ گئی۔یہ عقل معاد کہلاتی ہے کہ دنیا کی باتوں میں سے بھی آخرت کی سوچ نکال لینا۔



















































