اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

چند دانے

datetime 21  اپریل‬‮  2017 |

۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ ایک مرتبہ حضرت مولانا سیداصغر حسینؒ کے یہاں مہمان ہوئے، کھانے سے فراغت پر مفتی صاحب نے دستر خوان سمیٹنا چاہا، مولانا اصغر حسینؒ نے پوچھا: کیا کرنا چاہیے؟ بتایا کہ دستر خوان جھاڑوں گا، پوچھا: دستر خوان جھاڑنا آتابھی ہے؟ مفتی صاحب حیران ہوئے کہ اس میں جاننے والی کون سی بات ہے، لہٰذا یوں پوچھا کہ آپ بتا دیجئے کیسے جھاڑتے ہیں؟ فرمایا: یہ بھی ایک فن ہے،

پھر ہڈیوں کو، گوشت لگی بوٹیوں کو، روٹی کے ٹکڑوں کو اور چھوٹے ذرات کو الگ الگ کیا، پھر ہڈیوں کو ایسی جگہ پھینکا جہاں کتے کھاسکیں، گوشت لگی بوٹیوں کو ایسی جگہ پھینکا جہاں بلی کھا سکے، روٹی کے ٹکڑوں کو دیوار پر رکھ دیا تاکہ پرندے کھا سکیں، چھوٹے چھوٹے ذرات کو ایسی جگہ ڈالا جہاں چیونٹیوں کا بل قریب تھا، پھر فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا رزق ہے، اس کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

۔ حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے یہاں ایک عالم مہمان ہوئے، تو انہوں نے کھانے میں پھل پیش کیے، فراغت پر اس عالم نے کہا: حضرت! پھلوں کے چھلکے میں باہر پھینک دیتاہوں، پوچھا، پھینکنے آتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس میں آنے والی بات کیا ہے؟ فرمایا: میرے پڑوس میں غرباء رہتے ہیں اگرسب چھلکے ایک جگہ پھینک دیے تو انہیں دیکھ کر حسرت ہوگی، پس تھوڑے تھوڑے چھلکے اس طرح متعدد جگہوں پر پھینک دیے کہ دیکھنے والوں کو احساس بھی نہ ہو۔

حضرت اقدس تھانویؒ ایک مرتبہ بیمار ہوئے، تو آپ کے لیے دودھ لایاگیا، آپ نے نوش فرمایا اورتھوڑا سا بچا ہوا دودھ سرہانے رکھ دیا، اس دوران آپ کی آنکھ لگ گئی، جب بیدار ہوئے تو گلاس اپنی جگہ سے غائب پایا، خادم سے پوچھا کہ اس بچے ہوئے دودھ کا کیا معاملہ بنا؟ اس نے کہا: حضرت! ایک گھونٹ ہی تو تھا وہ پھینک دیا،

آپ بہت ناراض ہوئے، فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناقدری کی، خود ہی پی لیتے یاطوطے بلی وغیرہ کو پلا دیتے تاکہ مخلوق خدا کو فائدہ پہنچتا، پھر ایک اصول سمجھایا کہ جن چیزوں کی زیادہ مقدار سے انسان اپنی زندگی میں فائدہ اٹھاتا ہے اس کی تھوڑی مقدار کی قدر اور تعظیم اس کے ذمے واجب ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…