۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ ایک مرتبہ حضرت مولانا سیداصغر حسینؒ کے یہاں مہمان ہوئے، کھانے سے فراغت پر مفتی صاحب نے دستر خوان سمیٹنا چاہا، مولانا اصغر حسینؒ نے پوچھا: کیا کرنا چاہیے؟ بتایا کہ دستر خوان جھاڑوں گا، پوچھا: دستر خوان جھاڑنا آتابھی ہے؟ مفتی صاحب حیران ہوئے کہ اس میں جاننے والی کون سی بات ہے، لہٰذا یوں پوچھا کہ آپ بتا دیجئے کیسے جھاڑتے ہیں؟ فرمایا: یہ بھی ایک فن ہے،
پھر ہڈیوں کو، گوشت لگی بوٹیوں کو، روٹی کے ٹکڑوں کو اور چھوٹے ذرات کو الگ الگ کیا، پھر ہڈیوں کو ایسی جگہ پھینکا جہاں کتے کھاسکیں، گوشت لگی بوٹیوں کو ایسی جگہ پھینکا جہاں بلی کھا سکے، روٹی کے ٹکڑوں کو دیوار پر رکھ دیا تاکہ پرندے کھا سکیں، چھوٹے چھوٹے ذرات کو ایسی جگہ ڈالا جہاں چیونٹیوں کا بل قریب تھا، پھر فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا رزق ہے، اس کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
۔ حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے یہاں ایک عالم مہمان ہوئے، تو انہوں نے کھانے میں پھل پیش کیے، فراغت پر اس عالم نے کہا: حضرت! پھلوں کے چھلکے میں باہر پھینک دیتاہوں، پوچھا، پھینکنے آتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس میں آنے والی بات کیا ہے؟ فرمایا: میرے پڑوس میں غرباء رہتے ہیں اگرسب چھلکے ایک جگہ پھینک دیے تو انہیں دیکھ کر حسرت ہوگی، پس تھوڑے تھوڑے چھلکے اس طرح متعدد جگہوں پر پھینک دیے کہ دیکھنے والوں کو احساس بھی نہ ہو۔
حضرت اقدس تھانویؒ ایک مرتبہ بیمار ہوئے، تو آپ کے لیے دودھ لایاگیا، آپ نے نوش فرمایا اورتھوڑا سا بچا ہوا دودھ سرہانے رکھ دیا، اس دوران آپ کی آنکھ لگ گئی، جب بیدار ہوئے تو گلاس اپنی جگہ سے غائب پایا، خادم سے پوچھا کہ اس بچے ہوئے دودھ کا کیا معاملہ بنا؟ اس نے کہا: حضرت! ایک گھونٹ ہی تو تھا وہ پھینک دیا،
آپ بہت ناراض ہوئے، فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناقدری کی، خود ہی پی لیتے یاطوطے بلی وغیرہ کو پلا دیتے تاکہ مخلوق خدا کو فائدہ پہنچتا، پھر ایک اصول سمجھایا کہ جن چیزوں کی زیادہ مقدار سے انسان اپنی زندگی میں فائدہ اٹھاتا ہے اس کی تھوڑی مقدار کی قدر اور تعظیم اس کے ذمے واجب ہوتی ہے۔



















































