اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

بیٹی کا ٹفن

datetime 21  اپریل‬‮  2017 |

میری عادت تھی کہ گھر کی پرانی ، بوسیدہ اور ناقابلِ استعمال اشیا کو نکال دیتی۔ کبھی انھیں بیچ دیتی کبھی کسی سہیلی یا رشتے دار کو تھما دیتی۔ جو کسی بھی قابل نہ ہوتیں انھیں کوڑے میں پھینک دیتی۔ کل میں نے اپنی بیٹی کا ٹفن جو دائیں طرف سے ٹوٹ گیا تھا اپنی کام کرنے والی سلطانہ سے کوڑے میں پھینکنے کو کہا۔ ٹفن تھا تو نیا مگر گرنے کی وجہ سے ایک حصہ ناکارہ ہوگیا تھا۔ جس سے اُس میں ڈالی گئی اشیا بہہ جاتیں۔

کام والی نے ٹفن اٹھایا اور کوڑے دان کی طرف چل پڑی۔ اگلے دن میں بیٹی کے لیے نیا ٹفن لے آئی اور اُسے تازہ اور مزیدار کھانا بنا کے دینے لگی۔ ایک دن سلطانہ کام کرنے آئی تو اپنی بیٹی کو سکول سے ساتھ لیتی آئی۔ اُس نے بیٹی کو سیڑھیوں میں بیٹھا دیا اور خود کام کرنے لگی۔ کچھ دیر کے بعد اُس کی بیٹی نے سکول بیگ سے ٹفن نکالا اور ساتھ رکھ لیا۔ پھر ایک کتاب لے کے پڑھنے لگی۔ میں نے دیکھا یہ تو وہی ٹفن تھا جو ٹوٹ جانے کی وجہ سے میں نے کوڑے میں پھینکوایا تھا۔ میں نے اُس کی بیٹی کو اپنے پاس بلوایا اور کہا:یہ ٹفن تم سکول لے کے جاتی ہو؟مگر یہ تو ٹوٹا ہُوا ہے۔ اُس نے کہا: ہاں جی ۔۔۔ باجی جی، اماں اس میں کچھ روٹی کے ٹکڑے رکھ دیتی ہے جو گرتے نہیں، سالن میں وہاں سہیلی سے مانگ لیتی ہوں۔ میں نے کہا: آج بھی روٹی کے ٹکڑے تھے؟ نہیں جی، آج کچھ بھی نہیں تھا۔ مگر ٹفن تو تم نے بیگ میں رکھا ہُوا تھا۔ کہنے لگی: وہ اصل میں کبھی کبھار اماں بس ایسے ہی ساتھ رکھ دیتی ہے ،کہتی ہے کہ روٹی نہیں ہے بس ٹفن رکھ لے۔ سہیلیاں کیا کہیں گی کہ آج ٹفن نہیں لائی۔ کتنا عجیب ہے نہ کہ ہمارے بچے تو برگر اور پیزہ کهائیں اور دوسروں کے بچے رات میں کهانا تک نہ کها سکیں۔ ہماری مائیں بہنیں بیوی ہزاروں کی شاپنگ کریں تو دوسرے کے بچے بهوکے رہیں۔ ہوٹل میں کهانا کهانے کے بعد سیون اپ نہ پیئں تو جناب ہمارہ کهانا ہضم نہیں ہوتا جبکہ پڑوس کی خبر نہیں۔ اپنا درد تو جانور بهی محسوس کر لیتے ہیں انسان وہ ہے جو دوسروں کا درد محسوس کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…