۔ ہمارے محلے میں ایک عورت تھی، اس کا خاوند اس کے ساتھ ٹھیک نہیں رہتاتھا، اس کو خرچہ بھی نہیں دیتا تھا، وہ بچوں کے ساتھ بڑی پریشان رہتی تھی۔ایک مرتبہ دعا کرانے کے لیے والدہ صاحبہ کے پاس آئی تو والدہ صاحبہ نے کچھ اس کی مدد کرنا شروع کر دی، اب وہ وقفے وقفے سے آتی اور والدہ صاحبہ نے کچھ نہ کچھ پہلے سے رکھا ہوتا، مختصر وقت میں وہ اس کوفارغ کر دیتی،
وہ عورت محلے سے چلی گئی، کسی دوسرے محلے میں جا کر بیٹھ گئی تو والدہ صاحبہ کی بڑھاپے کی عمر تھی، بڑی مدت تک پوچھتی رہتیں کہ پتہ نہیں وہ عورت کہاں چلی گئی؟ اس کا پتہ بھی نہیں، کبھی آئی بھی نہیں، کئی مرتبہ تذکرہ کرتیں، ہمشیرہ صاحبہ کہتی ہیں کہ: ایک مرتبہ شہر میں سے گزرتے ہوئے مجھے وہ عورت ملی تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کہاں رہتی ہیں؟ وہ کہنے لگی کہ میں تو ساتھ والے محلے میں چلی گئی تھی اور بس میں ایسی الجھ گئی کہ مجھے آنے کا موقع ہی نہیں ملا، تو ہمشیرہ صاحبہ نے آ کر والدہ صاحبہ کو بتایا کہ فلاں عورت تو ساتھ والے محلے میں ہے اور میں اس کا گھر دیکھ آئی ہوں، والدہ صاحبہ بیمار بھی تھیں، بوڑھی بھی تھیں، کہنے لگی کہ مجھے اس کے گھر لے جاؤ! میں اس سے ملناچاہتی ہوں، ہمشیرہ نے پوچھا کہ کچھ کہنا ہے یا دیناہے بتا دیں! کہنے لگیں، نہیں بس میں نے ملناہے، حتیٰ کہ ہمشیرہ ان کے ساتھ چلیں، راستے میں والدہ صاحبہ بیماری کی وجہ سے کچھ دیر چلتیں پھر بیٹھ جاتیں۔ پھر چلتیں پھر بیٹھ جاتیں، ہمشیرہ کہتی ہیں کہ ہم ان کے پاس گئے اور امی نے اس کو کیا دیا، کب دیا؟ مجھے کچھ پتہ نہیں، پھر ہم واپس آ گئے، جب والدہ صاحبہ کی وفات ہوئی، تب اس عورت نے آ کر مجھے بتایا کہ تمہاری والدہ نے آ کر مجھے دس ہزار روپے دیے تھے۔
۔ ایک مرتبہ محلے کی ایک جوان العمر لڑکی بیماری تھی،خاوند اس کے علاج و معالجے پر توجہ نہیں دیتا تھا، والدہ صاحبہ کے پاس جب کبھی آتی تو وہ اس کے لیے دعا بھی کرتیں اور اس کی کچھ مدد بھی کر دیتیں، کچھ دن وہ نہیں آئیں تو ایک دن اس بیمار لڑکی کی بڑی بہن آ گئی، والدہ صاحبہ نے اس کو دو ہزار روپے دیے اوراسے کہنے لگیں کہ یہ تیری بہن کے پیسے میرے ذمے بنتے تھے اور میں پہلے نہ دے سکی، مجھے دیر ہو گئی، تم یہ اپنی بہن کو میری طرف سے ادا کر دینا،
اب بڑی بہن نے پیسے لے لیے اور اس نے جا کر اپنی بہن کو دے دیے اور اس کو کہاں کہ فلاں خاتون نے پیسے دیے ہیں اور یہ کہلوایا ہے کہ تمہارے میری طرف جو پیسے بنتے تھے پہلے میں نہ دے سکی، اب میرے پاس پیسے ہیں تو میں یہ ادا کر رہی ہوں، وہ لڑکی بڑی حیران ہوئی مگرچپ ہو گئی، کچھ دنوں کے بعد والدہ صاحبہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اماں آپ نے یہ پیسے کیسے بھیجے؟ تو والدہ صاحبہ نے کہا کہ بیٹی میں نے تمہاری مدد ہی کے لیے بھیجے تھے لیکن اگر تمہاری بہن کو بتاتی کہ میں تمہاری مدد کر رہی ہوں تو وہ بہن تمہیں طعنہ دیتی، میں نے یوں ظاہر کیا کہ جیسے میرے اوپر قرض تھا، چنانچہ تمہیں پیسے بھی پہنچ گئے اور اس کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہوا، اور میرا عمل بھی اس سے چھپ گیا۔



















































