اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

تم لیول بڑھاتے جاؤ گے، اللہ بھی لیول بڑھاتے جائیں گے

datetime 21  اپریل‬‮  2017 |

حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک صاحب حج کے سفر میں ہمارے ساتھ تھے اور وہ اللہ کا بندہ اتنا امیر تھا کہ خود کہتا تھا کہ مجھے اپنا حساب کرنے میں ایک مہینہ لگے گا کہ بینکوں میں پیسہ کتنا ہے؟ اس نے حج کا انتظام کیا اور یہاں پر بڑے ہوٹل میں کمرہ بک کروایا، پھر اس نے ایک  مہنگی گاڑی کرائے پر لی، حج کے پورے دنوں کے لیے وہ ہوٹل کے نیچے کھڑی رہے،

کہیں مجھے یا میری بیوی کو کہیں آنا جانا ہو تو کام لگے اور ایک مقامی عرب بندے کو اس نے پورے حج کے دنوں کے لیے نوکری پر کھا کہ میں آپ کو اتنے ہزار ریال دوں گا، اتنے دن آپ میرے ملازم رہیں، ڈرائیوربھی ہے، گاڑی بھی ہے، ایک سیکرٹری بھی اس نے رکھ لیا، کہتا تھا کہ مسئلہ ہی کوئی نہیں، میں پانی کی طرح پیسہ بہاؤں گا، مجھے حج پہ تو مشقت ہی نہیں آ سکتی، میں نے اسے سمجھایا کہ بہتر یہ ہے کہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دو، کیوں مصیبت میں پڑے ہو؟ تم لیول بڑھاتے جاؤ گے، اللہ بھی لیول بڑھاتے جائیں گے، اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ اس نے کہا کہ جی نہیں اور وہ اپنے ساتھ پیسے بھی بینک میں اتنے ٹرانسفر کرکے آیا کہ میرے خیال میں اس سے سو بندے حج کر سکتے ہوں گے، اپنی طرف سے اس نے پورے انتظامات کر لیے۔اللہ کی شان دیکھئے حج ہی کے دنوں میں ایک دن مجھے اس کا فون آیا کہ میری بیگم گم ہوگئی، بھئی پڑھی لکھی ہے، سمجھ دار ہے، نیک خاتون ہے، وہ کیسے گم ہو سکتی ہے؟ اس نے تو پہلے آدھا درجن حج کیے ہیں، کہنے لگا جی گم ہو گئی، چلو ڈھونڈو بھئی، پورے حرم میں ڈھونڈ رہا ہے، پھرپولیس والوں سے رابطہ، پھر فلاں سے رابطہ، کہیں کچھ پتہ نہیں، حتیٰ کہ اس بندے نے پیسے دے کر مکہ مکرمہ ٹی وی پر بھی اعلان کروایا، ٹی وی کے اوپر اعلان ہوا، کسی کو پتہ ہوتو بتاؤ، پولیس والوں کو کہا،

حتیٰ کہ اپنے رسوخ کے ذریعے اس نے گورنر مکہ سے رابطہ کیا اور اس کے ذریعے اس نے پوری پولیس کو پیغام بھجوایا، دو دن اس کو رونا پڑا، اتنی موٹی موٹی آنکھیں ہو گئیں سوجھ کر، باربار مجھے کہتا کہ میرا کیا بنے گا؟ میری بیوی میرے بچے، باربار مجھے کہتا کہ میرا کیا بنے گا؟ میری بیوی بچوں کا کیاہو گا؟ میری زندگی، میں اسے کہتا کہ میں نہیں کہتا تھا کہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دو،

دو رکعت پڑھو اب اللہ سے معافی مانگو، اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں، اپنے سامنے دو رکعت نفل نماز پڑھوائی، ابھی دعا کرکے اٹھا تھا اسی وقت اسے کال آئی کہ فلاں ہسپتال سے آپ کی بیوی کا فون ہے، ہوا یہ کہ بیوی نے گرمی میں کئی طواف کیے، وہ آ کے دو رکعت نفل پڑھنے کے لیے ایک جگہ پہ بیٹھی تو بے ہوش ہو گئی۔ Sun stroke (لو لگنا) جس کو کہتے ہیں، وہ ہو گیا اور چونکہ اس وقت اس کے پاس کوئی کاغذ نہیں

تھا، کارڈ نہیں تھا، اس کو پولیس والوں نے ایمبولینس میں ڈلوا کر کہیں دور مستشفی (ہاسپٹل) میں بھجوا دیا، وہ پھر ایک دو دن میں جب اس کی طبیعت ٹھیک ہوئی تب جا کر اس کے خاوند کواطلاع دی۔کہتا تھا کہ حضرت آج میں نے زندگی کا ایک بہترین اصول سیکھا کہ بندے کو بندگی اچھی لگتی ہے، پیسہ آتا ہے تو بندہ خدا بن بیٹھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…