اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک ماں کے رحم میں دو بچے تھے

datetime 20  اپریل‬‮  2017 |

ایک نے دوسرے سے پوچھا ” کیا تم زچگی کے بعد زندگی پر یقین رکھتے ہو ؟ دوسرے نے کہا کیوں؟ یقینا زچگی کے بعد کچھ نہ کچھ ضرور ہونا چاہیے، ممکن ہے کہ ہم یہاں اس لیے ہوں کہ خود کو آنے والی زندگی کے لیے تیار کر لیں۔ فضول بات ! پہلا بولا زچگی کے بعد کوئی زندگی نہیں، بھلا وہ کس قسم کی زندگی ہو سکتی ہے۔ دوسرے نے کہا مجھے نہیں معلوم، لیکن وہاں ، یہاں سے زیادہ روشنی ہو گی ۔

ہو سکتا ہے کہ ہم وہاں اپنے پیروں سے چلیں اور اپنے منہ سے کھائیں۔ ممکن ہے وہاں ہمارے پاس ایسے حواس ہوں جن کے بارے میں ہمیں ابھی کچھ سمجھ نہیں ہے۔ پہلے نے مذاق اڑایا کیا بے وقوفی ہے۔ پیروں سے چلنا ممکن ہی نہیں اور اپنے منہ سے کھانا ؟ مضحکہ خیز! ناف سے جڑی نالی سے ہمیں ہر وہ چیز مل جاتی ہے جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ نالی چھوٹی سی ہے ۔ زچگی کے بعد جب یہ نالی ساتھ نہ ہو گی تب زندگی کا تصور بھی محال ہے ۔ دوسرے نے اصرار کیا ” بہرحال ! میرا خیال ہے کہ وہاں کچھ نہ کچھ ضرور ہے اور شاید یہاں سے مختلف۔ ممکن ہے کہ وہاں ہمیں خوراک کی اس نالی کی ضرورت ہی نہ ہو اور ہو سکتا ہے ہم وہاں ہوا میں سانس لیں ؟ پہلے نے کہا بالکل فضول ! بھلا ہم تو پانی میں ڈوبے ہوئے ہی سانس لے سکتے ہیں۔ پانی کی تھوری سی بھی کمی ہو تو ہماری زندگی خطرے میں ہوتی ہے اور تم ہوا میں سانس لینے کی بات کر رہے ہو۔ اچھا چلو ! اگر زچگی کے بعد زندگی ہے تو کوئی کبھی وہاں سے واپس کیوں نہیں آیا ؟ زچگی زندگی کے خاتمے کا نام ہے ۔ زچگی کے بعد اندھیرے ، خاموشی اور بے ہوشی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ اس کے بعد سب ختم ہو جائے گا۔ دوسرا بولا ” خیر میں یہ سب نہیں جانتا لیکن مجھے یقین ہے کہ زچگی کے بعد ہماری ملاقات ہماری ماں سے ہوگی اور وہی ہماری دیکھ بھال کرے گی۔

پہلے نے کہا ماں؟ کیا تم واقعی ماں کے وجود پر یقین رکھتے ہو؟ کیا مزاحیہ بات کی ہے تم نے ۔ اگر ماں وجود رکھتی ہے تو ابھی وہ کہاں ہے؟ دوسرا بولا ” ماں ہمارے چاروں طرف ہے ۔ ہر جانب۔ ہم بھی اس کے ہیں۔ ماں کے بغیر یہ دنیا جہاں ہم موجود ہیں ، وجود نہیں رکھ سکتی۔ پہلے نے اعتراض کیا ” اگر ماں کا وجود ہوتا تو وہ مجھے نظر بھی آتی ۔ مجھ سے بات بھی کرتی ۔ اتنی چھپ کے نہ بیٹھی رہتی ۔ اگر وہ ہم سے اتنا ہی پیار کرتی تو ہم کو ایسے نہ چھوڑتی ۔ لہذا ! عقل یہی کہتی ہے کہ ماں کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ سب ہمارے دماغ کی پیداوار ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ دوسرے نے جواب دیا کبھی کبھی جب ہم خاموش ہوتے ہیں۔ توجہ دیتے ہیں اور سننے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے ۔ کہیں اوپر سے اس کی محبت بھری آواز سنائی دیتی ہے ۔ ہم کو اپنی دھڑکنوں کے ساتھ اس کی دھڑکن بھی محسوس ہوتی ہے ۔ وہی ہماری ماں ہے ۔ بات صرف محسوس کرنے کی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…