ایک پھانسی پر لٹکی ہوئی لاش کے بارے میں چند آدمی اس پر غور وبحث کریں کہ پھانسی زدہ کی موت کا سبب کیا ہے ؟ ایک نے کہا کہ سبب کھلا ہوا ہے اور وہ پھندا ہے جو اس کے گلے میں پڑا ہوا ہے جس سے گلاگھٹا سانس بند ہوا اور موت واقع ہوگئی ۔ دوسرے نےکہا کہ یہ صحیح ، مگر یہ اصلی سبب نہیں ، خود اس سبب کا سبب دوسرا ہے
اور وہ یہ تختہ ہے کہ جب وہ پاؤں کے نیچے سے نکل گیا اور آدمی اس پھندے میں لٹک گیا تو پھندے نے گلے کو دبایا اور موت واقع ہوگئی ۔ اس لیے موت کا اصلی سبب پھندہ نہیں بلکہ تختہ ہے کہ اس کے سرکنے ہی سے پھندہ گلے میں پھنسا ۔ تیسرے نےکہا کہ تختہ بھی موت کا اصلی سبب نہیں بلکہ اس کا سبب یہ بھنگی ہے جس نے تختہ میت کے پاؤں کے نیچے سے کھینچ لیا ، تاآنکہ وہ پھندے میں لٹک گیا ، پس موت کا اصلی سبب تختہ بھی نہیں بلکہ بھنگی کا فعل ہے۔ چوتھے نے کہا کہ بھنگی بھی اصلی سبب نہیں کیونکہ بھنگی کو خود میت سے ذاتی عداوت نہ تھی ، وہ مجسٹریٹ کےحکم سے مجبور تھا ۔ اس لیے موت کا اصلی سبب بھنگی نہیں بلکہ مجسٹریٹ کا حکم ہے جس نے بھنگی کو حرکت دی اور اسے پھانسی آگئی ۔ پانچویں نےکہا کہ تم میں سے ایک بھی اصل بنیادی سبب تک نہیں پہنچا مجسٹریٹ کو اس کی پھانسی سے کوئی ذاتی دلچسپی نہ تھی کہ وہ پھانسی کا حکم دیتا ۔ اصل یہ ہے کہ اس پھانسی زدہ نے خون ناحق کیا تھا ، اس کا کیس عدالت میں آکر ثابت ہو گیا تب مجسٹریٹ کو پھانسی دینے کے اختیارات کرنے پڑے ۔ پس اصل میں اس میت کی موت کا بنیادی سبب خود اس کا جرم ہے ۔ جرم نے مجسٹریٹ کو حکم قصاص پر آمادہ کیا۔ حکم نے بھنگی کو حرکت دی ، بھنگی نے تختہ کو پاؤں کے نیچے سے کھینچا ، اس کے ہٹ جانے سے پھندہ گلے میں لگا اور بالآخر موت واقع ہوگئی ۔پس موت کا ظاہری اور قریبی سبب تو پھندہ ہے مگر متعدد اسباب ظاہری و باطنی کے سلسلے سے گزرتا ہوا اصلی باطنی سبب خود مجرم کا جرم اور قانون وقت کی نافرمانی ہے۔



















































