ایک مالدار آدمی نے اپنے بڑے سے محل کے ساتھ ایک ’’باغیچہ ‘‘ بنوایا۔ وہ کبھی کبھار سیر و تفریح کے لئے اس باغیچے میں جاتا اور پھولوں اور پھلوں کے درمیان چہل قدمی کرتا۔ اسے یہ خیال آیا کہ میرا باغیچہ چھوٹا ہے اسے مزید بڑا ہونا چاہیے۔ باغیچے کے ساتھ ایک غریب کسان کا کھیت تھا۔
مالدار آدمی نے اپنے نوکروں اور بدمعاشوں کو حکم دیا تو انہوں نے وہ کھیت قبضے میں لے کر باغیچے میں شامل کر دیا۔ اب ’’باغیچہ ‘‘ بڑا ہو گیا جبکہ غریب کسان روتا رہ گیا ایک بار اس کسان نے دیکھا کہ وہ مالدار آدمی باغیچے میں اکیلا چہل قدمی کر رہا ہے کسان اپنے کندھے پر ایک خالی بوری رکھ کر اس کے پاس پہنچ گیا اور منت کر کے کہنے لگا جناب والا! کچھ مٹی کی ضرورت ہے اجازت دیں تو یہ ایک بوری بھر لوں؟ مالدار نے اجازت دے دی۔ کسان نے اپنی بوری مٹی سے بھری اور زمین پر بیٹھ گیا۔ اور مالدار کی دوبارہ منت کرنے لگا کہ جناب یہ بوری اٹھا کر میرے کندھے پر رکھ دیں۔ مالدار آدمی نے بوری اُٹھانے کی کوشش کی تو ہانپ گیا اور کہنے لگا مجھ سے یہ بوری نہیں اُٹھائی جاتی۔ تم خود اُٹھا لو۔ کسان نے کہا۔ جناب آپ مٹی کی ایک بوری نہیں اُٹھا سکتے۔ تو قیامت کے دن میرا پورا کھیت کندھے پر کیسے اُٹھا کر کھڑے ہوں گے؟ قیامت کا دن تو صدیوں کے برابر ہو گا۔ یہ سن کر مالدار آدمی کو پسینہ آ گیا اور اس نے فوراً اس کسان کا کھیت اسے واپس لوٹا دیا۔ ہاں بے شک قیامت کے بھاری دن۔ وہی کامیاب ہو گا جو اس طرح کے بوجھ سے ہلکا ہو گا۔



















































