ہمارے سلسلہ نقشبندیہ کے ایک بزرگ گزرے ہیں حضرت مولانا حسین علی واں پھجراں والے، حضرت خواجہ سراج الدین سے خلافت پائی، حالانکہ حضرت خواجہ سراج الدین ان کے شاگرد تھے، ان سے پڑھتے تھے یہ بھی خلوص دیکھئے ہمارے اکابر میں اخلاص کی اس سے بڑی کیا مثال ہو گی کہ جس کو کتابیں پڑھا رہے ہیں خود اسی سے بیعت ہو رہے ہیں،
سلوک سیکھنے کے لیے اکابر کے اصاغر سے فیض پانے کی بہترین مثال اس دور میں اس سے بڑی نہیں مل سکتی، ان سے خلافت پائی لیکن اللہ تعالیٰ نے مقام بڑا دیا تھا حضرت رشید احمد گنگوہی کے شاگرد تھے، بڑی نسبت تھی بڑے بھاری عالم تھے لیکن جب ان کا آخری وقت آیا تو حضرت کی یہ کیفیت تھی کہ جو بھی ان سے ملنے آتا وہ اس سے مصافحہ کرتے اور مصافحہ کرکے حال احوال پوچھتے اور حال احوال پوچھنے کے بعد فرماتے کہ دیکھو! میرا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت قریب ہے آپ نے بھی تیاری کرنی ہو گی میں نے بھی تیاری کرنی ہے اچھا پھر ملیں گے اور رخصت کر دیتے، پھر دوسرا آتا ملاقات کرتے اس کا حال پوچھتے اور پھر یہی فرماتے میرا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت قریب ہے میں نے بھی تیاری کرنی ہے آپ نے بھی تیاری کرنی ہو گی اچھا پھر ملیں گے کئی مہینے ان کا یہی معمول رہا۔ شوق اور اشتیاق اتنا بڑھ گیا تھا سبحان اللہ جب کوئی پرندے کو آزاد کرنے لگے نا اور پرندہ دیکھے کہ دروازہ کھلنے لگا ہے تو پرندہ پھڑکتا ہے ایسی ان کی کیفیت تھی حالت تھی کہ میرا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت قریب ہے ہم نے کبھی اس انداز سے سوچا کہ میرا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت قریب ہے۔



















































