سری سقطیؒ فرماتے ہیں کہ ہم بیٹھے تھے۔ ایک آدمی آیا اور پوچھتا ہے کہ کوئی اچھی جگہ ہے کہ جہاں کوئی مر سکے۔ کہنے لگے کہ ہم نے کنویں کا راستہ دکھا دیا کہ وہ سایہ دار اچھی جگہ ہے۔ کہنے لگے ہمارے سامنے وہ بندہ گیا وضو کیا، دو رکعت نفل پڑھے اور لیٹ گیا ہم سمجھے کہ وہ سویا ہوا ہے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو جگایا اس کو۔ تو دیکھا کہ وہ اللہ کو پیارا ہو چکا ہے۔ ا
للہ والے غیب دان نہیں ہوتے مگر سنتوں پر عمل کی برکت سے حدیث پاک میں آتا ہے کہ ملک الموت ان کو بتا دیتے ہیں کہ تمہاری موت کا وقت قریب ہے۔ تو اللہ والوں کی موت اس طرح ہوتی ہے۔
موت کی یاد دہانی کے لیے آدمی مقرر تھا
سیدنا فاروق اعظمؓ کتنی بڑی شان والے صحابی ہیں۔ انہوں نے ایک آدمی کو اپنے ساتھ لگا رکھا تھا اور اس کو یہ کہہ رکھا تھا کہ تم مجھے وقتاً فوقتاً موت کی یاد دلاتے رہنا۔ چنانچہ مختلف محفلوں میں وہ موت کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ ایک دن آپ نے انہیں فرمایا۔ اب آپ کوئی دوسرا کام کر لیجئے۔ کہنے لگے کہ حضرت کیا اب موت یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے؟ آپ نے اپنی ریش مبارک کی طرف اشارہ کیا جس میں کچھ سفید بال آ گئے تھے فرمایا۔ یہ سفید بال مجھے موت کی یاد دلانے کے لیے کافی ہیں، مجھے ان کو دیکھ کر موت کی یاد آتی رہے گی۔
اللہ والوں کی موت
اللہ والوں کی موت بھی ایسی ہوتی ہے۔ خواجہ علاؤ الدین عطارؒ تھے۔ عطر بیچتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی شیشیاں رکھتے تھے۔ ایک اللہ والے آئے اور بڑے غور سے ان کی شیشیوں کو دیکھنے لگے۔
یہ نوجوان تھے، کہنے لگے بڑے میاں کیا دیکھ رہے ہو۔ فرمانے لگے کہ دیکھ رہا ہوں کہ اتنی شیشیوں میں تمہاری جان اٹکی ہوئی ہے یہ کیسے نکلے گی۔ نوجوان تھے۔ غصے میں آ گئے۔ کہنے لگے بڑے میاں جیسی تمہاری نکلے گی ویسے میری نکلے گی۔ تو جب انہوں نے یہ کہا، بڑے میاں اس کے سامنے لیٹے اور انہوں نے چادر اپنے اوپر اوڑھ لی اور کہنے لگے کہ میری تو پھر ایسے نکلے گی۔ کلمہ پڑھ کر سو گئے۔
پہلے تو یہ اس واقعہ کو یوں ہی سمجھے لیکن جب ہلا کر دیکھا تو وہ انتقال کر چکے تھے۔ بس اس واقعہ سے دل دنیا سے اچاٹ ہو گیا۔ پھر یہ بڑے اللہ والوں میں شامل ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے تذکرہ اولیاء جیسی کتاب لکھ ڈالی، تو اللہ والوں کی تو ایسی موت آ جاتی ہے۔



















































