اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک انسان کی عجیب موت

datetime 19  اپریل‬‮  2017 |

سری سقطیؒ فرماتے ہیں کہ ہم بیٹھے تھے۔ ایک آدمی آیا اور پوچھتا ہے کہ کوئی اچھی جگہ ہے کہ جہاں کوئی مر سکے۔ کہنے لگے کہ ہم نے کنویں کا راستہ دکھا دیا کہ وہ سایہ دار اچھی جگہ ہے۔ کہنے لگے ہمارے سامنے وہ بندہ گیا وضو کیا، دو رکعت نفل پڑھے اور لیٹ گیا ہم سمجھے کہ وہ سویا ہوا ہے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو جگایا اس کو۔ تو دیکھا کہ وہ اللہ کو پیارا ہو چکا ہے۔ ا

للہ والے غیب دان نہیں ہوتے مگر سنتوں پر عمل کی برکت سے حدیث پاک میں آتا ہے کہ ملک الموت ان کو بتا دیتے ہیں کہ تمہاری موت کا وقت قریب ہے۔ تو اللہ والوں کی موت اس طرح ہوتی ہے۔
موت کی یاد دہانی کے لیے آدمی مقرر تھا
سیدنا فاروق اعظمؓ کتنی بڑی شان والے صحابی ہیں۔ انہوں نے ایک آدمی کو اپنے ساتھ لگا رکھا تھا اور اس کو یہ کہہ رکھا تھا کہ تم مجھے وقتاً فوقتاً موت کی یاد دلاتے رہنا۔ چنانچہ مختلف محفلوں میں وہ موت کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ ایک دن آپ نے انہیں فرمایا۔ اب آپ کوئی دوسرا کام کر لیجئے۔ کہنے لگے کہ حضرت کیا اب موت یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے؟ آپ نے اپنی ریش مبارک کی طرف اشارہ کیا جس میں کچھ سفید بال آ گئے تھے فرمایا۔ یہ سفید بال مجھے موت کی یاد دلانے کے لیے کافی ہیں، مجھے ان کو دیکھ کر موت کی یاد آتی رہے گی۔
اللہ والوں کی موت
اللہ والوں کی موت بھی ایسی ہوتی ہے۔ خواجہ علاؤ الدین عطارؒ تھے۔ عطر بیچتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی شیشیاں رکھتے تھے۔ ایک اللہ والے آئے اور بڑے غور سے ان کی شیشیوں کو دیکھنے لگے۔

یہ نوجوان تھے، کہنے لگے بڑے میاں کیا دیکھ رہے ہو۔ فرمانے لگے کہ دیکھ رہا ہوں کہ اتنی شیشیوں میں تمہاری جان اٹکی ہوئی ہے یہ کیسے نکلے گی۔ نوجوان تھے۔ غصے میں آ گئے۔ کہنے لگے بڑے میاں جیسی تمہاری نکلے گی ویسے میری نکلے گی۔ تو جب انہوں نے یہ کہا، بڑے میاں اس کے سامنے لیٹے اور انہوں نے چادر اپنے اوپر اوڑھ لی اور کہنے لگے کہ میری تو پھر ایسے نکلے گی۔ کلمہ پڑھ کر سو گئے۔

پہلے تو یہ اس واقعہ کو یوں ہی سمجھے لیکن جب ہلا کر دیکھا تو وہ انتقال کر چکے تھے۔ بس اس واقعہ سے دل دنیا سے اچاٹ ہو گیا۔ پھر یہ بڑے اللہ والوں میں شامل ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے تذکرہ اولیاء جیسی کتاب لکھ ڈالی، تو اللہ والوں کی تو ایسی موت آ جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…