حضرت مفتی لطف اللہ سہارنپوریؒ دارالعلوم دیوبند کے ایک بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ ایک مرتبہ اپنی مستورات کو لے کر کسی شادی میں شمولیت کے لیے جانا تھا۔ ایک سواری بنا لی جس کے اوپر گھر کی ساری عورتیں بیٹھ گئیں، بچے بھی بیٹھ گئے، مرد صرف آپ ہی ساتھ تھے۔ آپ ان کو لے کر شادی میں شریک ہونے کے لیے دوسری جگہ جارہے تھے۔ راستہ میں ایک جگہ ویرانہ آیا۔ وہاں کچھ ڈاکو چھپے ہوئے تھے۔
انہوں نے جب دیکھا کہ کوئی سواری آ رہی ہے جس پر بہت ساری پردہ دار خواتین ہیں اور صرف ایک مرد ہے تو وہ باہر نکل آئے۔ سواری کو گھیر لیا۔ کہنے لگے کہ ہم مال لوٹیں گے اور عزتیں بھی خراب کریں گے۔ حضرتؒ فرمانے لگے، آپ یہ سارے کا سارا مال لے جائیں مگر ان پردہ دار خواتین کے سروں پر سے چادریں نہ کھینچئے۔ آپ کو ان کے کانوں سے زیور کھینچنے کی ضرورت نہیں۔ ہم خود ہی اتار کر سارے کا سارا زیور آپ کو دے دیتے ہیں۔ ڈاکو کہنے لگے، بہت اچھا۔ آپ نے گھر کی مستورات سے فرمایا کہ سب زیورات اتار کر دے دو۔ وہ نیک عورتیں تھیں۔ انہوں نے سب چوڑیاں، سب انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر ایک رومال میں رکھ دیں۔ آپ نے اس کو گٹھڑی میں باندھ کر ڈاکوؤں کے سردار کے حوالے کر دیا اور فرمایا کہ ہمارے پاس جتنا زیور تھا وہ ہم نے آ پ کو دے دیا ہے۔ آپ ہماری پردہ دار خواتین کی ناموس کو دھبہ نہ لگائیں اور اب ہماری جان بخشی کر دیں۔ ڈاکوؤں نے جب دیکھا کہ مال کی گٹھڑی خود انہوں نے اپنے ہاتھوں سے باندھ کر دے دی ہے تو کہنے لگے بہت اچھا اب آپ جائیے۔جب آپ تھوڑا سا آگے بڑھے تو گھر کی عورتوں میں سے ایک نے کہا کہ اوہو! میری ایک انگلی میں سونے کا بنا ہوا ایک چھوٹا سا چھلہ (Ring)رہ گیا ہے۔ میرا دھیان ہی نہیں گیا۔ میں نے وہ دیا نہیں۔
آپ نے سنا تو سواری کو روک دیا اور اسے کہا کہ وہ بھی اتار کر دے دو کیونکہ میں نے کہا تھا کہ ہم تمہیں سارے زیورات دیں گے۔ اب یہ مناسب نہیں کہ ہم یہ چھلہ واپس لے جائیں۔ چنانچہ آپ نے وہ چھلہ لیا اور ڈاکوؤں کے پیچھے بھاگنے لگے۔ جب ڈاکوؤں نے دیکھا کہ کوئی پیچھے بھاگتا ہوا آ رہا ہے تو پہلے تو وہ گھبرائے اور پھر انہوں نے کہا کوئی بات نہیں۔ یہ تو اپنے ہاتھ سے پوری گٹھڑی باندھ کر دے چکا ہے۔
اب یہ ہمارا کیا کرے گا۔ چنانچہ وہ وہیں کھڑے ہو گئے۔ جب حضرتؒ وہاں پہنچے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ آپ ان کی منت کرکے فرمانے لگے کہ میں نے آپ سے تو وعدہ کیا تھا کہ ہم اپنے سب زیورات آپ کو دے دیں گے، مگر یہ ایک چھوٹا سا چھلہ ہماری ایک بیٹی نے پہنا ہوا تھا اس کی طرف دھیان ہی نہ گیا اور یہ ہمارے ساتھ جا رہا تھا۔ میں یہ لے کر آیا ہوں تاکہ یہ بھی آپ لوگوں کے حوالے کر دوں۔
ڈاکوؤں کے سردار نے جب یہ سنا تو اس کے جسم کے اندر ایک ایسی لہر دوڑی کہ اسے پسینہ آ گیا اور کہنے لگا، اوہو! یہ اتنا نیک اور دیانتدار بندہ ہے۔ یہ تو اتنی چھوٹی سی بات کا اتنا لحاظ رکھتا ہے اور میں نے بھی اپنے پروردگار کا کلمہ پڑھا ہے مگر میں اپنے پروردگار کے کلمے کی لاج نہیں رکھتا۔ چنانچہ اسی وقت کہنے لگا۔ حضرت میری زندگی برائی کرنے اور لوگوں کی عزتیں لوٹنے میں گزر گئی ہے اور میں نے لوگوں کا مال بھی چھینا ہے۔ میں بہت گناہ گار ہوں۔ مجھے آپ بھی معاف کر دیں اور مجھے توبہ کا طریقہ بھی بتا دیں تاکہ میرا پروردگار بھی مجھے معاف کر دے۔



















































