ایک آدمی کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کی بیوی بے عقل سی تھی۔ غلطیاں کر بیٹھتی تھی۔ کبھی کوئی نقصان کبھی کوئی نقصان۔ غصہ تو اس آدمی کو بہت آتا لیکن سوچتا کہ اگر میں نے اسے طلاق دے دی تو یہ بے چاری تو پریشان ہو جائے گی۔ پھر کون اسے لے گا۔ چلو اس کی زندگی بھی گزر جائے گی اور میرا بھی وقت گزر جائے گا۔ لہٰذا وہ اس کی غلطیوں کو معاف کر دیتا کہ کوئی بات نہیں، اللہ کی بندی ہے۔
اسی حال میں زندگی گزار دی حتیٰ کہ اس کی وفات ہو گئی۔ مرنے کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ سنائیے، آپ کے ساتھ کیا معاملہ بنا؟ کہنے لگا، مجھے اللہ رب العزت کے حضور میں پیش کیاگیا۔ اللہ رب العزت نے فرمایا۔ میرے بندے! تو اپنی بیوی کو میری سمجھ کر معاف کیا کرتاتھا جا آج میں نے تجھے اپنا بندہ سمجھ کر معاف کر دیا۔
مکھی پر شفقت بھی موجب رحمت
ایک محدث فوت ہونے کے بعد کسی کو خواب میں نظر آئے، اس نے پوچھا حضرت! آگے کیا بنا؟ فرمانے لگے کہ ایک عمل کو میں چھوٹا سمجھتا تھا مگر پروردگار کے ہاں قبول ہوگیا اور میری بخشش ہو گئی، اس نے پوچھا ، حضرت! وہ کون سا عمل تھا؟ فرمایا، ایک مرتبہ میں احادیث کی کتاب کر رہا تھا میں نے اپنا قلم دوات میں ڈبو کر نکالا، اس کے اوپر سیاہی لگی ہوئی تھی، ایک مکھی آئی اور اس سیاہی کے اوپر بیٹھ گئی میں نے سوچا کہ یہ پیاسی ہو گی، چلو میں تھوڑی دیر کے لیے قلم روک لیتا ہوں، چنانچہ میں نے ایک لمحے کے لیے قلم وہیں روک لیا کہ مکھی سیاہی چوس لے، اس کے بعد وہ مکھی اڑ گئی اور میں نے لکھنا شروع کر دیا، میں تو اس عمل کو بھول گیا تھا مگر نامہ اعمال میں موجود تھا، پروردگار نے فرمایا کہ تم نے مکھی کی پیاس کا خیال رکھا آج میں تیری پیاس کا خیال رکھتے ہوئے تجھے جہنم سے بری کر دیتا ہوں۔



















































