اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملک یمن سے دیار حرم تک عفت کا مشعل

datetime 19  اپریل‬‮  2017 |

نبی اکرمؐ نے صحابہ کرامؓ میں حیا والی صفت ایسی کوٹ کوٹ کر بھردی تھی کہ ان کی نگاہیں غیر کی طرف اٹھتی ہی نہیں تھیں۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطابؓ کے دور میں ایک عورت یمن سے چلی اور مدینہ طیبہ اکیلی آئی۔ اس نے مہینوں کا سفر کیا۔ وہ رات کو بھی کہیں ٹھہرتی ہوگی۔ اس کے پاس مال بھی تھا۔ اسے جان اور اپنی عزت و ناموس کا بھی خطرہ تھا۔ حضرت عمرؓ کو پتہ چلا تو آپ نے انہیں بلوایا۔

پہلے یہ پوچھا کہ اکیلی کیوں آئی ہو؟ اس نے کوئی عذر پیش کیا۔ پھر آپؓ نے ایک سوال پوچھا کہ بتاؤ تم جوان العمر عورت ہو، تم نے اکیلے سفر کیا، آبادیوں سے بھی گزری، ویرانوں سے بھی گزری۔ تمہیں جان و مال اور عزت و آبرو کا بھی خطرہ تھا۔ یہ بتاؤ کہ تم نے یمن سے مدینہ تک لوگوں کو کس حال پر پایا؟ اس نے جواب دیا کہ اے امیرالمومنین! میں یمن سے چلی اور مدینہ تک پہنچی اور میں نے راستہ میں سب لوگوں کو ایسے پایا کہ جیسا یہ سب کے سب ایک ماں باپ کی اولاد ہوتے ہیں۔ ان سب کی نگاہیں اتنی پاکیزہ تھیں کہ جوان العمر عورت سینکڑوں میل کا سفر کرتی تھی اور اسے اپنی عزت و آبرو کا کوئی خطرہ نہیں ہوا کرتا تھا۔
حضرت اقدس تھانویؒ کی تحمل مزاجی
حضرت اقدس تھانویؒ ایک جگہ تقریر کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔ وہاں اسٹیج پر انہیں ایک چٹ ملی۔ اس پر لکھا تھا۔ اشرف علی! آپ کافر ہیں۔ والدالزنا ہیں اور ذرا سنبھل کر بات کرنا۔ آپ نے یہ پڑھ کر بہت محبت سے جواب دیا۔ بھائی! یہ پرچی آئی ہے۔ سارے مجمع کو پڑھ کر سنائی اور پھر کہا کہ اگر میں کافر ہوں تو لو اب کلمہ پڑھ لیتا ہوں۔ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ۔ اور جو دوسری تہمت ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حسن اتفاق سے اس مجمع میں میرے والد کے نکاح کے گواہ موجود ہیں ان سے پوچھ لیں اور تیسری بات ذرا سنبھل کر بات کرنے کی ہے تو نہ میں چندہ مانگنے آیا ہوں نہ رشتہ مانگنے آیا ہوں۔ میں سنبھل کر بات کیوں کروں۔ میں تو اپنا حق بیان کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…