سیدنا صدیق اکبرؓ تشریف فرما ہیں۔ ٹاٹ کا لباس پہنے ہوئے ہیں، سب کچھ محبوبؐ کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں، اوپر سے حضرت جبرائیل علیہ السلام اترتے ہیں۔ جبرائیل امین نے ٹاٹ کا لباس پہناہوا تھا۔ انہوں نے نبی کریمؐ کی خدمت میں سلام پیش کیا اور عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ مجھے اللہ رب العزت نے بھیجا ہے۔
وہ ابوبکر صدیقؓ کے عمل سے اتنا خوش ہیں کہ انہوں نے آسمان کے سب فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ تم بھی صدیق اکبرؓ کی طرح ٹاٹ کا لباس پہنو۔ اسی لیے میں بھی ٹاٹ کا لباس پہن کر حاضر ہوا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جاؤ، پوچھ کر آؤ کہ کیا ابوبکرؓ اس حال میں بھی مجھ سے خوش ہیں۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے سنا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کہنے لگے ’’میں اپنے رب سے ہرحال میں خوش ہوں۔‘‘
احتیاط کی انتہا اسے کہتے ہیں
انسان کو چاہیے کہ نہ تو وہ اپنی عبادت پہ ناز کرے اور نہ ہی اپنے آپ پر اعتماد کرے۔ ایک دفعہ کسی نے حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ اپنے دروازے کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس نے انہیں سلام کیا اور آگے چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر واپسی پر اسی راستے سے گزرنے لگا تو دیکھا کہ ابھی تک حضرت عمرؓ دروازے کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ حیران ہو کر پوچھنے لگا۔ اے امیرالمومنین! آپ دروازے پر اس وقت سے بیٹھے ہوئے ہیں؟ آپ فرمانے لگے کہ میری بیٹی حفصہ ام المومنین ہے۔ وہ آج گھر آئی ہوئی ہے اور میری بیوی گھر پر نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے وہ گھر میں اکیلی ہے۔ اس لیے میں نے گھر میں اس کے پاس بیٹھنے کے بجائے یہاں دروازے پر بیٹھنا پسند کیاہے۔
اللہ اکبر۔۔۔ ہمارے اسلاف اس شیطان مردود کے شر سے اس قدر بچتے تھے۔ اس مردود کی چالوں کو اس وقت تک سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہو۔
حضرت ابودجانہؓ کی احتیاط
ہمیں ہر کام شریعت و سنت کے مطابق کرنا چاہیے وہ کام چھوٹا ہو یا بڑا، صحابہ کرامؓ اتنے محتاط تھے کہ حضرت ابودجانہؓ ایک صحابی ہیں،
وہ فجر کی نماز پڑھتے اور پڑھنے کے بعد جلدی اپنے گھر چلے جاتے، نبی اکرمؐ کی خدمت میں فجر کی محفل میں نہیں بیٹھتے تھے، کسی نے نبی اکرمؐ سے عرض کیا کہ ابو دجانہؓ پتہ نہیں کس حال میں ہے کہ جلدی چلا جاتا ہے۔ جب نبی کریمؐ نے ان سے پوچھا کہ تم جلدی کیوں چلے جاتے ہو؟ تو وہ کہنے لگے اے اللہ کے نبیؐ میرے ہمسائے کے گھر میں ایک درخت ہے جس پر پھل لگے ہوئے ہیں،
مگر اس کی کچھ شاخیں میرے گھر پر آتی ہیں اور جب رات ہوتی ہے تو شاخوں سے پھل میرے گھر میں گر جاتے ہیں، میں فجر کی نماز پڑھ کر جلدی جاتا ہوں تاکہ ان پھلوں کو اٹھا کر اس آدمی کے گھر میں واپس ڈال دوں، ایسا نہ ہو کہ میرے بچے جاگ جائیں اور بلااجازت دوسرے کے پھل کھانے کے گناہ میں ملوث ہو جائیں، اتنی چھوٹی سی بات میں شریعت کا خیال رکھتے تھے۔



















































