اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت عمرؓ کا خوف کہ کہیں میرا نام۔۔۔

datetime 18  اپریل‬‮  2017 |

اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کو بڑے بلند مقامات نصیب فرمائے تھے، اس کے باوجود اپنے بارے میں اتنے محتاط تھے کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ سے پوچھا، حذیفہ! مجھے تو یہ پتہ ہے کہ تمہیں نبی کریمؐ نے منافقین کے نام بتا دیے تھے، میں آپ سے منافقین کے نام تو نہیں پوچھتا بس اتنی بات پوچھتا ہوں کہ کہیں ’’عمر‘‘ کا نام تو ان منافقین کی فہرست میں شامل نہیں ہے، اگر ہم ہوتے تو ہم کہتے کہ ہم تو مراد مصطفیٰ ہیں،

ہمارے لیے تو محبوب خداؐ دعائیں مانگتے تھے، دیکھئے تو سہی کہ جنہیں مانگ کر لیا گیا وہ پروردگار کے حضور اس طرح جھکتے تھے اور اپنے پر اتنے محتاط رہتے کہ پھر بھی پوچھتے تھے کہ کہیں عمر کا نام تو ان میں شامل نہیں، کیا ہم نے کبھی ایسی نظر اپنی ذات پر ڈالی ہے؟ نہیں بلکہ ہماری تو گردنیں تنی رہتی ہیں، آنکھیں کھلی رہتی ہیں، ہماری نگاہیں دوسروں کے چہروں پر پڑتی ہیں ہمیں دوسروں کے عیب تو نظر آتے ہیں مگر اپنی حالت نظر نہیں آتی کاش! یہ آنکھیں بند ہوتیں، یہ گردنی جھک جاتیں اور یہ نگاہیں اپنے سینے پر پڑتیں کہ میرے اپنے اندر کیا عیب چھپے ہوئے ہیں، آج اس بات کی شدید کمی ہے۔
حضرت علیؒ بن عیاض کی خشیت
فضیل بن عیاض کے بیٹے علی بن فضیل کو مقام خوف نصیب تھا، جب قرآن پڑھا یا سنا کرتے تو عذاب کی آیتوں پر بے ہوش ہو جاتے تھے، چنانچہ دل میں تمنا کیا کرتے تھے کہ یا اللہ! کبھی مجھے بھی ایک ہی وقت میں پورا قرآن سننے کی توفیق عطا فرما کیونکہ وہ تلاوت کرتے وقت تھوڑا سا پڑھتے اور جہاں ڈرانے کی بات آتی تو وہیں بے ہوش ہو جاتے تھے، ان کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ ان کے سامنے قاری صاحب نے پڑھا ’’کہ وہ ایسا دن ہو گا کہ انسان اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے‘‘،

اس بات کو سنا اور اسی وقت بے ہوش ہو کر گر گئے۔
نعمت کے ملنے پر حضرت عمرؓ کا خوف
ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے پینے کے لیے پانی مانگا تو ان کو پانی کی بجائے شربت دے دیا گیا۔ آپ شربت پینے لگے تو آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے۔ کسی نے کہا، اے امیرالمومنین! آپ کیوں روتے ہیں؟

فرمایا مجھے قرآن پاک کی ایک آیت رلا رہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ عمر ابن الخطاب کو کہہ دیا جائے۔کہ ’’تم اپنی نعمتیں دنیا کے اندر لوٹ چکے ہو تم نے خوب مزے اڑائے۔‘‘ ایسا نہ ہو کہ مجھے جو یہ نعمتیں مل رہی ہیں یہ میری نیکیوں کا اجر کہیں دنیا میں ہی نہ مل رہا ہو۔ آپ اتنا روئے تھے کہ آنسوؤں کے چلنے کی وجہ سے رخساروں پر لکیریں پڑ گئی تھیں، حالانہ آپ مراد مصطفیٰ تھے۔ عشرہ مبشرہ میں سے تھے مگر اس کے باوجود کثیر البکاء تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…