اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کو بڑے بلند مقامات نصیب فرمائے تھے، اس کے باوجود اپنے بارے میں اتنے محتاط تھے کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ سے پوچھا، حذیفہ! مجھے تو یہ پتہ ہے کہ تمہیں نبی کریمؐ نے منافقین کے نام بتا دیے تھے، میں آپ سے منافقین کے نام تو نہیں پوچھتا بس اتنی بات پوچھتا ہوں کہ کہیں ’’عمر‘‘ کا نام تو ان منافقین کی فہرست میں شامل نہیں ہے، اگر ہم ہوتے تو ہم کہتے کہ ہم تو مراد مصطفیٰ ہیں،
ہمارے لیے تو محبوب خداؐ دعائیں مانگتے تھے، دیکھئے تو سہی کہ جنہیں مانگ کر لیا گیا وہ پروردگار کے حضور اس طرح جھکتے تھے اور اپنے پر اتنے محتاط رہتے کہ پھر بھی پوچھتے تھے کہ کہیں عمر کا نام تو ان میں شامل نہیں، کیا ہم نے کبھی ایسی نظر اپنی ذات پر ڈالی ہے؟ نہیں بلکہ ہماری تو گردنیں تنی رہتی ہیں، آنکھیں کھلی رہتی ہیں، ہماری نگاہیں دوسروں کے چہروں پر پڑتی ہیں ہمیں دوسروں کے عیب تو نظر آتے ہیں مگر اپنی حالت نظر نہیں آتی کاش! یہ آنکھیں بند ہوتیں، یہ گردنی جھک جاتیں اور یہ نگاہیں اپنے سینے پر پڑتیں کہ میرے اپنے اندر کیا عیب چھپے ہوئے ہیں، آج اس بات کی شدید کمی ہے۔
حضرت علیؒ بن عیاض کی خشیت
فضیل بن عیاض کے بیٹے علی بن فضیل کو مقام خوف نصیب تھا، جب قرآن پڑھا یا سنا کرتے تو عذاب کی آیتوں پر بے ہوش ہو جاتے تھے، چنانچہ دل میں تمنا کیا کرتے تھے کہ یا اللہ! کبھی مجھے بھی ایک ہی وقت میں پورا قرآن سننے کی توفیق عطا فرما کیونکہ وہ تلاوت کرتے وقت تھوڑا سا پڑھتے اور جہاں ڈرانے کی بات آتی تو وہیں بے ہوش ہو جاتے تھے، ان کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ ان کے سامنے قاری صاحب نے پڑھا ’’کہ وہ ایسا دن ہو گا کہ انسان اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے‘‘،
اس بات کو سنا اور اسی وقت بے ہوش ہو کر گر گئے۔
نعمت کے ملنے پر حضرت عمرؓ کا خوف
ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے پینے کے لیے پانی مانگا تو ان کو پانی کی بجائے شربت دے دیا گیا۔ آپ شربت پینے لگے تو آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے۔ کسی نے کہا، اے امیرالمومنین! آپ کیوں روتے ہیں؟
فرمایا مجھے قرآن پاک کی ایک آیت رلا رہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ عمر ابن الخطاب کو کہہ دیا جائے۔کہ ’’تم اپنی نعمتیں دنیا کے اندر لوٹ چکے ہو تم نے خوب مزے اڑائے۔‘‘ ایسا نہ ہو کہ مجھے جو یہ نعمتیں مل رہی ہیں یہ میری نیکیوں کا اجر کہیں دنیا میں ہی نہ مل رہا ہو۔ آپ اتنا روئے تھے کہ آنسوؤں کے چلنے کی وجہ سے رخساروں پر لکیریں پڑ گئی تھیں، حالانہ آپ مراد مصطفیٰ تھے۔ عشرہ مبشرہ میں سے تھے مگر اس کے باوجود کثیر البکاء تھے۔



















































