خاصی بڑی دکان تھی ، کئی کاؤنٹرز پر سیلز مین مصروف کار تھے ،کام بڑی روانی اور پرسکون انداز میں چل رہا تھا۔ ۔پے منٹ کے لئے وہ کیش کاؤنٹر پر پہنچا ۔ مالک کے دائیں بائیں دو نوجوان کمپیوٹر پر کیش رسیو کر کے رسید دے رہے تھے اور مالک کسٹمرز سے خوش خلقی سے ڈیل کر رہا تھا ،کالی گھنی داڑھی اور سفید شلوار قمیص میں ملبوس وہ ایک پرکشش شخصیت۔ ایک لافانی چمک اسکی آنکھوں میں۔
رسید لینے کے بعد جب اس سے مصافحہ کیا تو اس کے ہاتھوں کا گداز بڑا پرلطف محسوس ہوا۔ اللہ اکبر اللہ اکبر!!دور سے آتی ہوئی ایک دھیمی سی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ ۔کہیں آذان ہو رہی ہے۔ ایک ھلکا سا خیال اسے محسوس ہوا۔ اسے بڑی حیرت ہوئی جب اس نے مالک ِدکان کے چہرے کے رنگ کو متغیر ہوتے دیکھا اور وہ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔ لبیک۔ لبیک۔ میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں اس کا رنگ سرخ ہو چکا تھا۔ جناب ! آپ کو کون بلا رہا ہے ؟مجھے وہ بلا رہا ہے جس کے مجھ پہ بےشمار احسانات ہیں !جس نے مجھے یہ سب کچھ دیا ہے !جو میری ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ !یہ مقام مجھے اسی کی وجہ سے ملا ہے۔ !مجھے تو کوئی نظر نہیں آ رہا !!مجھے بلانے والا بہت بڑا۔ سب بڑوں سے بڑا۔ اتنا بڑا کہ ہر جگہ موجود۔ ۔ ۔ہر ہر ذرے پر اس کا قبضہ ۔ ۔میرا رؤاں رؤاں اس کا محتاج ۔ ۔نگاہیں اسے نہیں پا سکتی ۔ ۔اور وہ سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔ کون ہے وہ ؟ابھی تم نے اس کے منادی کی آواز نہیں سنی ؟اتنا بڑا ہو کر بھی وہ نوازنے کے لئے اپنے بندوں کو اپنے گھر کی طرف بلا رہا ہے آ جاؤ ، ، آ جاؤ۔ نماز کی طرف۔ آ جاؤ کامیابی کی طرف۔ لبیک ۔ ۔لبیک ۔میں حاضر ہوں ۔ ۔میں حاضر ہوں !!سیلزمین لائٹیں بند کر رہے تھے ۔ ۔ ۔دکان بند کی جا رہی تھی ۔ ۔ ۔سب اللہ کے گھر کی طرف جا رہے تھے ۔ ۔ ۔افسوس میں اس حقیقت سے اب تک کیوں نا آشنا تھا۔ میں تو بے خبر ہی رہا کہ یہ آواز تو میرے مالک کے بلاوے کی ہے۔ اے میرے رب!
مجھے معاف فرما۔ میں حاضر ہوں اور وہ بھی ان میں شامل ،ایک ولولے اور ایک نئی امنگ کے ساتھ اپنے رب کی حاضری کے لئےاس کے در کی طرف بڑھا چلا گیا!



















































