ایک دن دربار میں ایک درباری داخل ہو ا جبکہ اس کے ہاتھ میں جار تھا تو شہنشاہ نے پوچھا کہ جار کے اندر کیا ہے؟ درباری نے جواب دیا کہ عالی جاہ ! یہ ریت اور چینی کا مرکب ہے ۔ اکبر نے دوبارہ پوچھا کہ یہ کس لیے ہے؟ درباری نے عرض کیا کہ عالی جاہ ! معاف فرمائیں ( مجھے علم نہیں ہے ) ہم بیربل کی ذہانت کی آزمائش لینا چاہتے ہیں۔ ہم اس سے چینی کے اجزا ء ریت سے الگ کروانا چاہتے ہیں۔
اکبر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ دیکھو بیربل ! تمہارے لیے ہر روز ایک نیا چیلنج ہوتا ہے۔ آپ نے چینی کو ریت سے جدا اس کو بغیر حل کیے کرنا ہے۔ بیر بل نے کہا کہ بادشاہ سلامت ! یہ بہت ہی آسان کام ہے۔ یہ بچوں کا کھیل ہے۔ بیر بل نے ایک برتن لیا اور دربار سے باہر چلا گیا۔ درباری بھی اس کے پیچھے چلے گئے۔ بیربل باغ میں گیا اور اس نے ریت اور چینی کے مرکب کو زمین پر آم کے درخت کے تنے پر ڈال دیا درباری نے پوچھا کہ یہ تم نے کیوں کیا؟ بیربل نے جواب دیا کہ ہمیں ان کے نتائج کا کل علم ہو گا؟ اگلے دن وہ باغ میں آم کے درخت کے قریب گئے اور انہوں نے دیکھا کہ وہاں صرف ریت کے اجزاء پڑے تھے اور چینی کے اجزا بے شمار چیونٹیاں اٹھا کر اپنی چیو نٹیوں کے گھروں (بلوں ) میں لے گئیں اور چند چیونٹیاں ابھی بھی چینی کے اجزاء کو اٹھا کر لے جانے میں مصروف تھیں۔ درباری نے پوچھا کہ مگر ساری چینی غائب ہو چکی ہے ؟ بیربل نے اس کے کان میں سر گوشی کی کہ جدا ہو گئی ہے۔ تمام ہنس پڑے۔ اگر تم چینی کو پانا (دیکھنا ) چاہتے ہو تو ان چیونٹیوں کے گھروں پر جائیں۔ شہنشاہ نے کہا اور تمام درباریوں نے قہقہہ لگا کر ہنسنا شروع کر دیا۔‘‘



















































