امام عاصمؒ جب مسجد نبوی میں جاتے تھے تو وہاں قرآن پاک پڑھا کرتے تھے۔ ان کے منہ سے خوشبو آیا کرتی تھی۔ کسی نے پوچھا، حضرت! کیا آپ منہ میں الائچی رکھتے ہیں یا کوئی اور چیز رکھتے ہیں۔ ہم نے اتنی خوشبو کبھی کہیں نہیں سونگھی۔ وہ کہنے لگے نہیں۔
بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں نبی کریمؐ کی زیارت نصیب ہوئی تو نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ عاصم! تو اتنی محبت کے ساتھ قرآن پڑھتا ہے کہ مجھے بہت پسند آتا ہے۔آؤ میں تمہارے منہ کو بوسہ دے دوں۔ جب سے نبی کریمؐ نے خواب میں میرے منہ کا بوسہ لیا ہے اس وقت سے میرے منہ سے خوشبو آتی ہے۔
پانچ سالہ حافظ قرآن
ہارون الرشید کے زمانہ میں ایک پانچ سالہ بچے کو پیش کیا گیا۔ اس کے باپ نے بتایا کہ یہ بچہ قرآن مجید کا حافظ ہے، ہارون الرشید خود بھی قرآن مجید کا حافظ تھا۔ اس نے کہا کہ بچے سے قرآن مجید سنوں گا۔ چنانچہ باپ نے بیٹے سے کہا، بیٹا! قرآن سناؤ، وہ بچہ اتنا چھوٹا تھا کہ ضد کرنے لگا کہ ابو! پہلے مجھ سے وعدہ کریں کہ آپ مجھے گڑ لے کر دیں گے۔ اس زمانہ میں گڑ ہی چیونگم ہوتا تھا۔ بیٹے کے اصرار پر باپ نے وعدہ کیا کہ ہاں میں تمہیں گڑ کی ڈلی لے کر دوں گا۔ اس نے کہا اچھا سناتا ہوں، ہارون الرشید نے پانچ جگہوں سے اس سے قرآن پاک سنا اور اس نے پانچوں جگہوں سے قرآن پاک صحیح صحیح سنا دیا۔



















































