ایک کانی ہرنی ہر روز سمندر کے کنارے آ کر گھاس چرا کرتی تھی۔ کانی آنکھ سمندر کی طرف رکھتی اور دوسری میدان کی طرف اور یہ سوچتی تھی کہ یہ طریقہ بالکل صحیح ہے۔ کیونکہ اگر کوئی اس کو مارنے کیلئے آئے گا تو میدان کی طرف ہی سے آئے گا۔ سمندر کی طرف سے آ کر اس کو مارنے کا ارادہ کوئی کیوں کرے گا۔ اس طرح اپنی
دانست میں خود کو خوف و خطرے سے آزاد سمجھ کر خوب چرا کرتی۔ ایک عقل مند کئی دنوں سے اس کے پیچھے لگا ہوا تھا لیکن وہ ہرنی اس کے ہاتھ نہ آئی آخر ایک دن وہ کشتی میں سوار ہو کر سمندر کی سمت سے آیا۔اور اس کا نشانہ باندھ کر اس کو مار گرایا۔ ہرنی مرتے وقت بہت غم زدہ ہو کر یہ بولی ہائے میری بد نصیبی ! جدھر سے کوئی خوف و خطر نہ تھا مجھ پر یہ آفت اسی طرح سے آئی اور جدھر سے خطرہ تھا وہاں سے کوئی نقصان نہ پہنچا۔



















































