پچھلے سال حج کے موقع پر سعودی عرب کے اخبار میں ایک خبر آئی۔ یمن کے ایک حاجی صاحب آئے ہوئے تھے۔ ان کی تصویر بھی اخبار میں چھپی تھی۔ ان کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔ انہوں نے بیان دیا کہ میں نے پہلا حج بیس سال کی عمر میں کیا اور اس مرتبہ میں زندگی کا سواں حج کرنے آیا ہوں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے بیس حج سواری پر اور اسی حج پیدل چل کر کیے۔
قرآن سننے کی خواہش رب جلیل نے کی
ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعبؓ بیٹھے تھے۔ نبی کریمؐ نے ان کو بلا کر فرمایا کہ مجھے سورہ سناؤ۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ مجھے سورہ بینہ سناؤ۔ وہ بڑے سمجھدار تھے۔ چنانچہ آگے سے پوچھنے لگے۔ اے اللہ کے محبوبؐ ’’کیا اللہ رب العزت نے میرا نام لے کر فرمایا؟ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا ’’ہاں اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام لے کر فرمایا ہے کہ ابی بن کعبؓ سے کہو کہ قرآن سنائے۔‘‘ نبی کریمؐ آپ بھی سنیں گے اور میں (پروردگار) بھی سنوں گا۔ یہ سن کر ابی بن کعبؓ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ان کا یہ رونا خوشی کا رونا تھا۔
قرآن سننے کے لیے مشتاق فرشتے بھی۔۔۔
ایک صحابیؓ اپنے گھر کے اندر تہجد میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے، طبیعت ایسی مچل رہی تھی کہ جی چاہتا تھا کہ ذرا جہر (اونچی آواز) سے پڑھیں۔ مگر قریب ہی ایک گھوڑا بندھا ہوا تھا اور چارپائی پر بچہ لیٹا ہوا تھا۔ محسوس کیا کہ جب اونچا پڑھتا ہوں تو گھوڑا بدکتا ہے۔ لہٰذا دل میں خوف پیدا ہوا کہ گھوڑا کہیں بچے کو نقصان نہ پہنچا دے۔ پھر آہستہ پڑھنا شروع کر دیتے۔ ساری رات یہی معاملہ ہوتا رہا۔
جب تہجد مکمل کی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ ستاروں کی مانند روشنیاں ہیں جو ان کے سر کے اوپر آسمان کی طرف واپس جا رہی ہیں۔ یہ ان روشنیوں کو دیکھ کرحیران ہوئے۔ صبح ہوئی تو وہ صحابیؓ نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عرض کیا کہ اے اللہ کے محبوبؐ میں نے رات جو تہجد اس انداز سے پڑھی کہ بچے کے خوف کی وجہ سے آہستہ پڑھتا تھا اور جی چاہتا تھا کہ ذرا آواز کے ساتھ پڑھوں۔
مگر دعا کے وقت میں نے کچھ روشنیاں آسمان کی طرف جاتے دیکھیں۔ اللہ رب العزت کے محبوبؐ نے ارشاد فرمایا کہ وہ رب کریم کے فرشتے تھے جو تمہارا قرآن سننے کے لیے عرش رحمان سے نیچے اتر آئے تھے اگر تم اونچی آواز سے قرآن پڑھتے رہتے تو آج مدینہ کے لوگ اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھ لیتے۔
تلاوت قرآن پر نزول رحمت
ایک مرتبہ نبی اکرمؐ مسجد میں تشریف لائے۔ تہجد کا وقت تھا،
ایک طرف دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نوافل پڑھ رہے ہیں اور آہستہ قرآن مجید پڑھ رہے ہیں تو دوسری طرف سیدنا عمر فاروقؓ ذرا جہراً (اونچی آواز) سے قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے۔ تہجد میں دونوں طرح پڑھنے کی اجازت ہے، جب دونوں غلام پڑھ چکے تو حاضر خدمت ہوئے۔ نبی اکرمؐ نے پوچھا۔ ابوبکرؓ! تم آہستہ کیوں پڑھ رہے تھے؟ عرض کیا، اے اللہ کے نبیؐ میں اس ذات کو قرآن سنا رہا تھا جو سینوں کے بھید بھی جانتی ہے۔
مجھے بھلا اونچا پڑھنے کی کیا ضرورت تھی؟ پھر حضرت عمرؓ سے پوچھا عمر تم اونچا کیوں پڑھ رہے تھے؟ عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ میں سوئے ہوؤں کو جگا رہا تھا، شیطان کو بھگا رہا تھا۔ قرآن پڑھا جاتا تھا اور شیطان ان جگہوں سے بھاگ جایا کرتا تھا۔ اللہ رب العزت کی رحمتیں اتریں گی اور اس کی برکت سے سینے روشن ہو جائیں گے۔ اسی لیے فرمایا: ’’کہ یہ قرآن انسانوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔



















































