اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

باون سال کی عمر میں سہاگن ہوگئی

datetime 18  اپریل‬‮  2017 |

میں ایک باون سالہ عورت ہوں ۔پیدائش ایک کھاتے پیتے گھرانے میں ہوئی۔ زمینیں اور دولت کی ریل پیل ہر طرف موجود تھی۔ جب بڑی ہوئی تو رشتوں کی گویا بہار لگ گئی۔ والد صاحب کا انتقال ہوچکا تھا ۔سر پر ماں اور بڑے بھائی موجود تھے۔ کوئی رشتہ اس وجہ سے مسترد ہوا کہ لڑکے والے زمین اور دولت کے لالچ میں رشتہ کررہے ہیں۔

کوئی رشتہ اس لئے مسترد ہوا کہ لڑکے والے ہم پلہ نہیں۔ کچھ رشتے محض اس بنا پر مسترد کردیے گئے کہ وہ بھائیوں کو پسند نہ آئے۔ رفتہ رفتہ میری عمر تیس سال ہوگئی۔بالوں میں ہلکی ہلکی چاندی کے ساتھ ساتھ رشتوں میں کمی آتی گئی۔میرے بھائی اپنے خاندانوں میں مصروف و مگن تھے،ماں اپنے پوتوں پوتیوں میں خوش تھی۔میں بھی انھیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی۔ کم کم رشتے بھی گھر والوں کی پسند کی بھینٹ چڑھتے رہے اور میری عمر چالیس کے پیٹے میں داخل ہوگئی۔ ایک دن سب سے بڑے بھائی میرے پاس آئے اور ایک خالی اسٹامپ پیپر میرے سامنے دستخط کے لئے رکھا۔میں نے نوعیت پوچھی تو کچھ ٹال مٹول کے بعد بتایا کہ وہ زمین کا کچھ حصہ بیچنا چاہتے ہیں۔میں نے خالی پیپر پر دستخط سے انکار کردیا۔ بھائی سخت ناراض ہوکر چلے گئے کہ تمھیں ہم پر اعتماد نہیں۔ بھابیوں کے رویے میں عمر گزرنے کے ساتھ بے رُخی اور سختی آتی جارہی تھی۔ماں سے تذکرہ کرتی لیکن وہ ان کے سامنے مجبور تھی۔ پھر جب میری عمر پینتالیس سال سے اوپر ہوئی تو شادی کی موہوم سی امید بھی ختم ہوگئی۔ کچھ رنڈوے اور طلاق یافتہ مردوں کے رشتے آئے لیکن بھائیوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ دُنیا کیا کہے گی؟دن مہینوں میں،مہینے سالوں میں گزرتے گئے اور میری عمر باون سال ہوگئی۔ ایک دن سُناکہ قریبی رشتہ داروں کے گھر دعوت ہے۔میں بھی جلدی جلدی تیار ہونے چلی گئی۔اس دن میں نہ جانے کیوں بہت خوش تھی

۔سب سے اچھے کپڑے نکالے،ہلکا ہلکا میک اپ کیا اور بالوں کو سنوار رہی تھی کہ بڑی بھابھی کمرے میں داخل ہوئیں۔میری تیاری دیکھ کر استفسار کیا۔میں نے وجہ بتائی تو انھوں نے ہنگامہ کھڑا کردیا کہ میں ان کی دعوت کا لُطف بھی خراب کردوں گی۔اتنے میں باقی بھابیاں بھی آگئیں اور ان کے ساتھ مل کر مجھے طعنے اور کوسنے دینا شروع ہوگئیں۔میرا دل چھناکے سے ٹوٹ گیا اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔میرے بھائی میری یہ دُرگت دیکھتے رہے لیکن زبان سے ایک لفظ میرے حق میں نہ نکالا۔میں بھاگی بھاگی ماں کے پاس گئی تو وہ بھی خاموش رہی۔ میں خاموشی سے گھر سے نکلی اور تین گھر چھوڑ کر خالہ کے گھر چلی گئی۔خالہ میری حالت دیکھ کر بہت دلبرداشتہ ہوئیں۔وہ لوگ اس وقت مری کے لئے نکل رہے تھے،مجھے بھی ساتھ لے لیا۔خالہ نے امی کو فون کرکے بتا دیا۔مری پہنچتے ہی خالہ نے ماموں اور ننھیال کے دیگر لوگوں کو اکٹھا کیا اور میرا مسئلہ ان کے سامنے رکھ دیا۔میرے ایک ماموں زاد بھائی جو بال بچے دار تھے،نے کھڑے ہوکر یہ تجویز پیش کی کہ وہ مجھ سے نکاحِ ثانی کے لئے تیار ہیں اور بخوبی عدل و انصاف کی صلاحیت رکھتے ہیں۔خاندان کے تمام بڑوں نے غوروخوض شروع کیا اور خوب مشاورت کے بعد اس نکاحِ ثانی کے حق میں فیصلہ ہوگیا۔اسی شام کو میرا نکاح کروا دیا گیا اور میں باون سال کی عمر میں سہاگن ہوگئی۔ میرے شوہر مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں اور میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔مجھے ایسا لگتا ہے کہ گویا میری شخصیت مکمل ہوگئی ہو۔

بھائی اس رشتے پر خوش نہیں لیکن ماں نے سکون کا سانس لیا ہے۔ میری کہانی سے آپ لوگ یہ فیصلہ ضرورکریں کہ میرا قصورکیا تھا جو باون سال مجھے اس خوشی کے لئے انتظار کرنا پڑ ا؟ ﺍﮮ اللہ ہمیں رسول اللہ ﷺ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما ﺍﮮ الله ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے ﺍﮮ الله ﮨﻤﯿﮟﺑﻬﯽ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﮯ ﺟﻨﻬﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ یا ذوالجلال والاکرام یاالله ! ہماری دعائیں اپنی شان کے مطابق قبول فرما۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…