محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں ان پر امریکہ اور یورپ کی طرف سے توہین رسالت کی سزا منسوخ کروانے کے لئے شدید دباؤ ڈالا گیا۔ محترمہ نے اپنے وزیر قانون اقبال حیدر مرحوم سے دھول بہت اڑوائی لیکن اس قانون کو منسوخ یا تبدیل کرنے کے حوالے سے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ انہی دنوں محترمہ نے ایک عجیب بیان دیا جو تمام بڑے اخبارات میں چھپا اور مولانا فضل الرحمن نے اس پر شدید رد عمل بھی دیا۔
محترمہ نے فرمایا تھا کہ توہین رسالت کے مجرموں کو سزا دینے کے لئے قانون کی کوئی ضرورت نہیں انہیں عوام خود سزا دے سکتے ہیں۔ محترمہ بہت اعلیٰ پائے کی سیاستدان تھیں جس کا ثبوت ان کا یہ بیان بھی ہے۔ اگر ہم ان کے اس بیان کا مخاطب و سامع دونوں خود کو سمجھ لیں تو یہ اس وقت کی وزیر اعظم کی جانب سے لاقانونیت کو فروغ دینے والے بیان کے طور پر نظر آتا ہے لیکن محترمہ ہم سے صرف مخاطب تھیں، سنا وہ ان طاقتوں کو رہی تھیں جو ان پر دباؤ ڈال رہی تھیں اور محترمہ درحقیقت یہ کہہ رہی تھیں کہ اگر مغرب یہ سمجھتا ہے کہ اس قانون کو منسوخ کرنے سے توہین رسالت کے مجرم بچ جائیں گے تو یہ ان کی خوش فہمی ہے۔ یہ اتنا سنگین جرم ہے کہ اس کا مجرم قانون کی عدم موجودگی کے سبب بچ نہیں سکے گا بلکہ قانون نہ ہونے کی صورت میں عوام خود جج اور جلاد بن جائیں گے۔ محترمہ کا وہی بیان آج یوں ایک سچائی بن کر سامنے کھڑا ہے کہ پاکستان کے موجودہ ماحول میں پانچ چیزیں نظر آ رہی ہیں۔ (01) سوشل میڈیا پر توہین رسالت، توہین صحابہ، توہین قرآن اور توہین مذہب ایک مہم کی صورت جاری ہے۔ (02) لبرلز کہہ رہے ہیں کہ توہین رسالت کا قانون نہیں ہونا چاہئے۔ (03) مخصوص ٹولہ توہین رسالت و مذہب جیسے قوانین سے نجات کے لئے ملک کو سیکولر بنانے کی دعوت پر مشتمل مربوط مہم چلا رہا ہے۔ (04) جوں ہی توہین رسالت یا توہین مذہب کا کوئی ملزم پکڑا جاتا ہے
راتوں رات یہ منظم شور بلند ہوجاتا ہے کہ ضرور اسے “ذاتی وجوہ” کے تحت پھنسایا گیا ہوگا۔(05) حکومت اس طرح کے کیسز چلانے میں اولا سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی اور اگر سزا ہوجائے تو اس پر عمل در آمد نہیں کرتی یعنی عملا توہین رسالت کے قانون کی موجودگی اور عدم موجودگی برابر ہو چکی ہے۔ اب ان پانچ حقیقتوں کا جائزہ اس بڑی سچائی کے تناظر میں لیجئے کہ ہمارے تعلیمی و تربیتی نظام کی تباہی کے باعث مذہب عملی شکل میں تو غائب نظر آتا ہے لیکن قلوب میں عشق کی انگیٹھیاں آج بھی پوری طرح گرم ہیں۔ آپ اَپر کلاس سے ہی اس کی مثال دیکھ لیجئے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے کسی نے پوچھا کہ وہ کونسا موقع تھا جب آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ قادیانیوں کو پارلیمنٹ سے کافر قرار دلوانا ہے ؟ بھٹو مرحوم نے فرمایا کہ یہ وہ موقع تھا جب آغا شورش کاشمیری مجھے طویل ملاقات میں اس فیصلے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے کرتے اچانک اٹھے اور میرے قدموں میں آ بیٹھے اور مجھ سے کہا کہ مسٹر وزیر اعظم میں آپ سے تحفظ ختم نبوت کی بھیک مانگتا ہوں۔ میں لرز کر رہ گیا کیونکہ یہ وہ شخص میرے قدموں میں آ بیٹھا تھا جس نے دس سال قید انگریز کے دور میں بھگتی تھی اور دس سال آزادی کے بعد پاکستان میں اور جسے ایوب خان نے سزائے موت سنوائی مگر اس کی استقامت میں فرق نہ آیا۔ بھٹو ایک سیاستدان تھے وہ پوری بات نہیں بتا سکتے تھے۔ پوری بات آغا شورش کاشمیری نے بتائی ہے۔
آغا صاحب کہتے ہیں کہ جب میں نے دیکھا کہ ان پر میری دلیلیں کوئی اثر نہیں کر رہیں تو میں اٹھا اور ان کے قدموں میں جا بیٹھا اور کہا، مسٹر وزیر اعظم ! فاظمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بابا کی ختم بنوت پر ڈاکہ پڑ گیا ہے، آپ قیامت کے روز حضرت فاطمہؓ اور ان کے بابا ﷺ کا سامنا کیسے کریں گے ؟ میں آپ سے تحفظ ختم نبوت کی بھیک مانگتا ہوں۔ بھٹو بہت ہی آزاد خیال انسان تھے، وہ خود کو سوشلسٹ باور کراتے اور روایتی معنیٰ میں مذہب بیزار انسان بھی تھے لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے عشق کی انگیٹھی ان کے دل میں بھی پوری طرح گرم تھی جس کا نتیجہ ہم نے 1974ء میں پارلیمنٹ کے فیصلے کی صورت دیکھا۔
جس ملک کے اعلیٰ ترین سیاستدانوں و ادیبوں کے دلوں میں عشق کی انگیٹھیاں یوں روشن ہوں تو عام آدمی کی ایسی انگیٹھیاں تو ویسے بھی ایٹمی توانائی سے روشن ہوتی ہیں۔



















































