ایک شخص بکری کے ساتھ جا رہا تھا۔ اس نے بکری کی رسی نہیں پکڑی ہوئی تھی۔ کسی نے اس سے کہا ’’حیرت ہے یہ بکری کیوں تمہارے پیچھے آ رہی ہے۔ حالانکہ تم نے اس کی رسی بھی نہیں پکڑ رکھی۔‘‘ یہ سن کر بکری والے نے کہا’’ یہ میرے پیچھے اس لئے آ رہی ہے کہ یہ احسان کی رسی سے بندھی ہوئی ہے جو آپ کو نظر نہیں آ رہی۔ جب یہ بھوکی ہوتی ہے تو میں اسے کھلاتا ہوں، جب پیاسی ہوتی ہے تو میں اسے
پلاتا ہوں۔ جب اس کا بدن میلا ہو جاتا تو میں اسے نہلاتا ہوں۔ اسے گرمی سردی سے بچاتا ہوں۔ ہر طرح سے خیال رکھتا ہوں۔ یہ میرا اس پر احسان ہے۔ اسے میرے احسانوں کی رسی نے باندھ رکھا ہے۔ یہ سن کر دوسرے آدمی نے سرہ آہ بھری اور بولا۔ ’’اللہ تعالیٰ کے بھی ہم پر ان گنت احسانات ہیں۔ اس کے احسانوں کی رسی نے ہمیں باندھ رکھا ہے۔ لیکن ہم تو اس کے احکامات کے پیچھے نہیں چلتے۔ ہم سرکشی پر اترے ہوئے ہیں!‘‘



















































