اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

کیا کوئی مندر ” ایشور” کے نام کا بھی ہے؟

datetime 18  اپریل‬‮  2017 |

وہ ایک ہندو تھا۔ اور پچھلے دو گھنٹوں سے ہماری بس اندرونِ سندھ کی کچی سڑکوں پر ہچکولے کھاتی گزر رہی تھی۔ ملازمت، تعلیم، اور سوشل ایشوز پر وہ بےتکان بولتا رہا، باہمی گفتگو سے اس قدر اعتماد ڈویلپ ہو چکا تھا کہ میں نے گفتگو کا رُخ مذہب کی جانب موڑ دیا۔ کچھ رسمی مذہبی سوالات کے بعد میں نے کہا ‘ بھائی راکیش ، کہا جاتا ہے آپ کے ہاں بےشمار خُداؤں کی پرستش ہوتی ہے،

لیکن ایک خُدا (ایشور) کا تصور آپ کے ہاں بھی کہیں نا کہیں موجود ہے؟ جی جی بالکل ہے سر! بالکل ہے۔ مجھے آپ سر نہیں بھائی کہیے ، میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اوہ ٹھیک ہے اسرار بھائی !میرا ایک سوال ہے، سوچ کر جواب دیجئے گا۔ آپ کے ہاں بلا مبالغہ سینکڑوں نہیں ہزاروں بھگوان ہیں جن کی پوجا کی جاتی ہے اور اُن کے مندِر بنائے جاتے ہیں۔ مثلا” رام مندر، کرشن مندر وغیرہ وغیرہ کیا کوئی مندر ” ایشور” کے نام کا بھی ہے؟ ایشور کے نام کا مندر؟ (استعجاب اُس کے چہرے سے عیاں تھا) ھمم ! نہیں اسرار بھائی وہ میرے علم کی حد تک نہیں ہے (اُس نے سوچتے ہوئے جواب دیا) کیوں؟ کیا ایشور کا حق نہیں کہ اُس کی پوجا کی جائے ؟ حق؟ حق تو نہیں معلوم کس کا ہے، لیکن ہمارے ہاں اس گہرائی سے مذہب کے بارے میں سوچا نہیں جاتا (اُس نے سوچتے ہوئے کہا) ویسے سوال تو اُٹھتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ کسی گہری سوچ میں غرق ہو گیا۔ میں نے چند منٹس اسے سوچنے دیا اور پھر گویا ہوا۔ کیا تمہارا دل نہیں چاہتا ؛ کہ جس نے یہ سارا سنسار بنایا، جس نے اُن شخصیتوں کو بھی وجود بخشا جنہیں اوتار سمجھ کر ان کی مورتیاں بنائی جاتی ہیں، اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں۔ ایک لمحے کے لیے سوچو جس کے کرم سے حیات کا سارا کاروبار جاری و ساری ہے، ندی نالے، ساگر، جھیلیں، دھرتی اور پربت جس کےحکم سے انسانوں کےنفع کے لیے رواں دواں ہیں، اُس کا حق نہیں کہ اُس کی عبادت ہو، اُس کی پوجا ہو؟ ہاں ہے تو!

لیکن، لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی انتظام نہیں ، اسرار بھائی ! اگر میں کہوں کہ ہے تو؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا ! ہے؟؟ کہاں ہے؟؟ اس نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا!! ہاں ہے نا ایشور کا مندر- اور وہ ہے مسجد !!!مسجد ۔؟؟؟ وہ تقریبا” اُچھل پڑا! ہاں مسجد ایشور ہی کا مندر ہے بھائی راکیش!! تم ابھی سوچ میں غرق تھے ناں کہ کیسے ایشور کی پوجا ہو، کیسے اُس کی عبادت ہو، تو آجایا کرو مسجد !! وہ تو بنی ہی ایشور کی عبادت کے لیے ہے۔ قرآن میں اعلان ہے : وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا اور مسجدیں ” اللہ ” ہی کے لیے ہیں، لہٰذا وہاں اللہ کے ساتھ کسی کو نا پکارو !” اللہ ” آپ کی زبان میں ایشور ہی کو کہا جاتا ہے !!میری باتیں سن کر اُس کےچہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ کہنے لگا، میں نے زندگی میں پہلی بار ایسا مسلمان دیکھا ہے، جو ایک ہندو کو مسجد میں آنے کی دعوت دے۔ آپ کوئی اوتار ہو یا اوتاروں کی اولاد ؟ اُس نے حیرت اور خوشی کے ملے جلےجذبات سے کہا !!نا میں اوتار ہوں نا اوتاروں کی اولاد ، میں بس ایک عام مسلمان ہوں۔ لیکن میرا تو خیال ہے آپ کے ہاں ہندوؤں کو ناپاک سمجھا جاتا ہے، پھر کیسے آپ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں آجاؤں؟ ارے تمہیں اس بات پر حیرانی ہے کہ میں مسلمان ہوکر ایک ہندو کو مسجد میں آنے کی دعوت دے رہا ہوں، تمہیں اس سے بھی بڑی بات بتاؤں؟ ہمارے نبی ﷺ کے سامنے دنیا کی مقدس ترین مسجد، مسجد نبوی میں ایک بار ایک مشرک بدُّو نے آکر پیشاب کر دیا،

آپ ﷺ نے نا اُسے جھڑکا، نا اُس کو مارا، اگرچہ اُن کے ساتھیوں نے دوڑ کر اُسے پکڑنا چاہا، لیکن نبی ﷺ نے انہیں روک دیا، اور جب وہ پیشاب کر کےفارغ ہوگیا ، تو آپﷺ نے ڈول سے پانی بہایا، اور اُس بدُو سے انتہائی نرمی سے کہا کہ یہ مسجد اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہے، یہاں پیشاب کرنا بُری بات ہے۔ وہ بدُو اس حُسن سلوک سے بے حد متاثر ہوا، اور دوڑتا ہوا اپنے قبیلے والوں کے پاس گیا اور پُکار پُکار کر کہتا رہا کہ دیکھو میں نے محمدﷺ کی مسجد میں پیشاب کیا، لیکن اس حرکت کے باوجود نا انہوں نے مجھے مارا، نا مجھے جھڑکا، یہ سُن کر پورا قبیلہ مسجد نبوی آیا اور مسلمان ہو گیا !! راکیش حیرت سے میرا منہ تکتا رہا ۔۔ اور کہا!! مُجھے ایشور کی پوجا کرنی ہو تو کیسے کروں؟ کچھ نہیں بس کسی ایسی مسجد میں جہاں لوگ تمہیں جانتے نا ہوں ۔ (کیونکہ مجھے ڈر ہے عام مسلمانوں میں چونکہ دعوت کا جذبہ موجود نہیں اس لیے مخالفت کریں گے) عام سے شلوار قمیض پہن کر چلے جانا اور اپنی شناخت کسی کو مت بتانا، چُپ چاپ منہ ہاتھ دھو کر صف میں بیٹھ جانا، شروع شروع میں دیکھتے رہو کیسے عبادت ہوتی ہے، بعد میں تُم وُضو اور نماز دونوں سیکھ جاؤ گے دیکھ دیکھ کر۔ وہ حیران اور دنگ میری باتیں ایسے سُن رہا تھا جیسے میں کوئی آسمانی مخلوق ہوں اور جس کی زبان سمجھنا اُس کے بس کی بات نہیں!! کچھ دیر خاموشی رہی اور تھوڑی ہی دیر میں اُس کا اسٹاپ آگیا، اور وہ یہ کہہ کر اُتر گیا ؛؛ “حالانکہ میں آپ کے اخلاق سے بے حد متاثر ہوا ہوں،

لیکن میں آپ سے نمبرز کا تبادلہ نہیں کروں گا، میں جدی پُشتی ہندو ہوں ، اور ڈرتا ہوں آپ سے مزید بات چیت اور ملاقاتیں ہوئیں تو مجھے کہیں مسلمان ہی نا ہونا پڑ جائے۔”(اور قہقہ لگا کر ہنسنے لگا) میں بھی زور سے ہنسا، اور کہا، میری بات چھوڑو۔ایشور کی عبادت کرنی ہو تو بس مسجد آجانا! خُوش رہو ، فی امان اللہ !!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…