حضرت عبداللہ بن عمرؓ سواری پر ہیں، فاصلہ طے ہو رہاہے، سواری کھڑی کرکے نیچے اترتے ہیں، ایک درخت کے نیچے جا کر بیٹھتے ہیں، پھر اٹھ کر آتے ہیں اور سفر شروع کر دیتے ہیں، پوچھنے والے نے کہا: حضرت! جب قضائے حاجت کی ضرورت نہیں تھی تو پھررکے کیوں؟ وقت کیوں لگایا؟
جواب میں فرمایا میں نے اپنے آقا ؐکو دیکھا، محبوب خداؐ نے یہاں سواری روکی تھی اور یہاں بیٹھ کر فارغ ہوئے تھے، اگرچہ مجھے حاجت درپیش نہیں تھی، لیکن میرا جی چاہا کہ میں وہی کروں جو میرے آقاؐ نے کیا۔یہ سنت سے محبت، ذرا حضرت حذیقہؓ سے پوچھئے، جنہوں نے اہل فارس سے کہا تھا: ’’ان احمقوں اورروشن خیالوں کی وجہ سے میں اپنے محبوبؐ کی سنت کو ترک کر دوں۔
ایک اشکال کا حیران کن جواب
ذوالنون مصریؒ ایک بزرگ گزرے ہیں ،وہ ایک مرتبہ اپنے دوستوں کو فرمانے لگے:’’تم کیاسمجھتے ہو اس شخص کے بارے میں جس کی مرضی سے دنیا کا کاروبار چل رہا ہے؟جب انہوں نے یہ بات کی تو لوگ بڑے حیران ہوئے کہ یہ تو بڑے محتاط بزرگ تھے، ایسا کلام کبھی نہیں کرتے تھے، آج انہوں نے کیسی بات کر دی، چنانچہ انہوں نے کہا: حضرت! آپ کے اس کلام میں کچھ گہرائی نظر آتی ہے، مہربانی فرما کر سمجھا دیجئے، چنانچہ پھر حضرت نے فرمایا:’’دیکھو! ہر کام اللہ کی مرضی سے چلتا ہے، میں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں گم کر دیا ہے، اب گویا ہر کام میری مرضی سے چل رہا ہے۔‘‘



















































