ایک بزرگ تھے ان کی ساری اولاد بڑی نیکوکار تھی، لیکن ان میں سے ایک بچہ بہت ہی نافرمان اور بے ادب قسم کا تھا، اللہ والے ان کے وہاں مہمان آئے، انہوں نے یہ فرق دیکھا تو اس بزرگ سے پوچھا کہ آخر یہ کیا وجہ ہے یہ بچہ کیوں ایسا نافرمان نکلا، تو وہ بزرگ بڑے آزردہ ہوئے، آنکھوں سے آنسو آ گئے فرمانے لگے کہ یہ اس کا قصور نہیں یہ میرا قصور ہے،
ایک مرتبہ گھر میں فاقہ تھا اور ہمارے گھر میں شاہی عورتوں کا بچا ہوا کھانا آ گیا کسی نے ہدیہ تحفہ کے طور پر بھیجا تھا، عام طور پر تو میں ایسے کھانے سے پرہیز کرتا ہوں، لیکن بھوک کی وجہ سے اس دن میں نے وہی کھانا کھا لیا پھر وہی رات تھی کہ ہم میاں بیوی نے ملاقات کی اور اللہ نے اسی رات بچے کی بنیاد رکھی یہ اس مشتبہ کھانے کا اثر ہے کہ ہمارا یہ بچہ نافرمان نکلا۔
ضد کا علاج کیسے کیا؟
حضرت مفتی رشید احمد گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ والدہ نے دودھ دیا ہم دو بھائیوں کو، ایک میرا بڑا بھائی تھا اور ایک میں تھا، تو میں ضد کرنے لگا کہ پہلے میں پیؤں گا، چونکہ والدہ نے گلاس بھائی کے ہاتھ میں دیا تھا، اس لیے بھائی نے کہا کہ نہیں پہلے میں نے ہی پینا ہے، اب میں جتنا رو رہا ہوں ضد کر رہا ہوں، بھائی کہتا ہے ہرگز نہیں میں پہلے پیؤں گا، کہنے لگے: جب میں زیادہ رویا دھویا اور ادھم مچایا تو بھائی نے غصے میں آ کر اپنا بھی دودھ پیا اور میرے حصے کا بھی دودھ پی لی اور خالی گلاس ایک طرف کو رکھ دیا کہ اب تمہیں دودھ ملنا ہی نہیں، فرماتے ہیں کہ ایسا یہ واقعہ میرے ذہن پر نقش ہوا کہ اس کے بعد پوری زندگی میں نے کبھی بھی ضد نہ کی، یہ سوچتے ہوئے کہ ضد کرنے سے تو انسان اپنے حصے سے بھی محروم ہو جایا کرتا ہے۔



















































