حضرت مولانا طلحہ خود ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ میں چھوٹا تھا، گلی میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک بچے کو بیعت کر رہا تھا، اس لیے کہ میں نے اپنے والد کو بیعت کرتے دیکھا تھا۔اب میں چھوٹا سا! اور ایک بچے کو بیعت کے کلمات پڑھا رہا تھا، اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے، اللہ کی شان کہ ادھر سے حضرت مدنیؒ تشریف لے آئے، انہوں نے مجھے آ کر دیکھا تو چونکہ شفقت بہت تھی،
شیخ الحدیثؒ کے ساتھ بہت زیادہ گہرا تعلق تھا، مجھے دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ صاحبزادے صاحب! ہمیں بھی بیعت کر لو، کہنے لگے میں نے کہا: آئیں بیٹھ جائیں! مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ بڑے میاں کون ہیں؟ تو میں نے حضرت مدنیؒ کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے اور میں نے کچھ کلمات پڑھ کر کہا کہ اچھا! میں نے آپ کو بھی بیعت کر لیا۔تو دیکھو! بچہ ہے، لیکن وہ حضرت مدنیؒ کو بیعت کر رہا ہے، بچے اسی طرح کے کام کرتے ہیں۔
یہ بچہ ہے یا بوڑھا
حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ نے ایک مرتبہ حضرت شاہ غلام علی دہلویؒ سے فرمایا: غلام علی کسی بچے کو ہمارے پاس لے آنا، حضرت شاہ صاحب اپنے گھر گئے اور بچے کو حضرت کی خدمت میں لانے کے لیے تیار کیا ، کافی دیر اسے سمجھاتے رہے کہ حضرتؒ کی خدمت میں ایسے بیٹھنا اور ایسے کرنا، ایسے نہ کرنا، بچہ جب اچھی طرح معاملہ سمجھ گیا تو اگلے دن حضرت شاہ صاحب اسے حضرتؒ کی خدمت میں لائے، بچے نے سلام کیا اور با ادب ایک طرف بیٹھ گیا، کچھ دیر گزری تو حضرتؒ نے فرمایا: غلام علی ہم نے تو کہا تھا کہ کسی بچے کو ہمارے پاس لے آنا، یہ کوئی بچہ ہے یہ تو بوڑھا معلوم ہوتا ہے، یعنی بچہ تو اس وقت اچھا لگتا ہے جب بچوں والی باتیں کرے، اچھل کود کرے، آپ نے بچے کو بوڑھا بنا کر بٹھا دیا، وہ لگتا ہی نہیں کہ بچہ ہے۔



















































