سیدنا صدیق اکبرؓ نے اپنی وفات سے کچھ پہلے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو بلایا، فرمایا کہ میری یہ جائیداد اپنے دو بھائیوں میں اور دو بہنوں میں تقسیم کر دینا، انہوں نے عرض کیا: وہ کیسے؟ میری تو ایک بہن ہے، فرمایا نہیں، تمہاری والدہ امید سے ہے اور میرے وجدان نے مجھے بتایا کہ اب اللہ تعالیٰ مجھے بیٹی عطا فرمائیں گے، اس لیے اس کو بھی شمار کیا،
پھر ایسا ہی ہوا کہ ان کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی اہلیہ کو بیٹی عطا فرمائی اور ان کی بات سو فیصد سچ نکلی، یہ فراست ہے جو اللہ تعالیٰ دل میں القاء فرما دیتے ہیں۔
حضرت عمرؓ کی فہم و فراست
حضرت عمرؓ مسجد میں تشریف فرما ہیں، ایک گورا چٹا بندہ آ گیا اس زمانہ میں نجران سائیڈ کے جو عیسائی تھے وہ گورے چٹے ہوتے تھے، پوچھا کون ہے؟ کہنے لگا میں بنو کلب کا سردار ہوں اور میں عیسائی ہوں اور میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ میرے اوپر اسلام پیش کریں، چنانچہ حضرت عمرؓ نے اس کے سامنے اسلام کی کچھ تعلیمات کو کھولا، قرآن پڑھا، قرآن پاک نے اس کے دل پر ایسا اثر ڈالا کہ اس نے کلمہ پڑھا اور وہ مسلمان ہو گیا، حضرت عمرؓ نے اس کو دیکھتے ہی فراست سے پہچان لیا کہ یہ مخلص ہے اور اللہ اس سے دین کا کام لے لیں، انہوں نے اس کو خط لکھ کر دیا، آپ فلاں جگہ جائیے میں آپ کو اس علاقہ کا گورنر بناتا ہوں، ایک صحابی بول اٹھے ہم نے زندگی میں پہلا شخص دیکھا جس نے کلمہ پڑھ کر ایک رکعت نماز نہیں پڑھی اور عمر بن خطابؓ کے ہاتھوں سے گورنر بن گیا ہو، وہ بڑے خوش ہوئے اس بات سے، چنانچہ وہ اس رقعہ کو لے کر چل پڑے،
کہتے ہیں کہ بس دوسرے لوگ بھی اٹھے تو حضرت علیؓ بھی اٹھے اور حسن اور حسین بھی دونوں ساتھ تھے، تو یہ تینوں حضرات پھر راستے میں جا کر ان کو ملے، سلام کیا، انہوں نے پوچھا جی کیسے آنا ہوا؟ تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ یہ میرے دو بیٹے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ اتنے خلوص سے آپ نے کلمہ پڑھا کہ امیرالمومنین نے اسی وقت آپ کو ایک علاقہ کی ولایت سپرد کر دی،
تو میں چاہتا ہوں کہ میرے بچوں کو آپ کے ساتھ رشتہ داری کا تعلق مل جائے، اس نے تھوڑی دیر سوچا، کہنے لگا میری بیٹیاں ہیں تین علی آپ کے ساتھ بڑی بیٹی کا نکاح کرتا ہوں اور حسن کے ساتھ دوسری بیٹی کا نکاح اور حسین کے ساتھ تیسری بیٹی کا نکاح کہ آپ تینوں نبی کریمؐ کے قریبی رشتہ دار ہیں، مجھے محبوب کا قرب اب سب سے زیادہ عزیز ہے، چنانچہ ان کی بڑی بیٹی محیا تھی،
دوسری کا سلمی اور تیسری کا رباب اور جو سکینہ بنت حسین تھی یہ انہیں رباب کی بیٹی تھیں، اللہ اکبر تو حضرت عمرؓ کی فراست دیکھئے کہ ایک بندہ آ رہا ہے، کلمہ پڑھ رہا ہے، اس کے کلمہ پڑھتے ہی پہچان لیا، اللہ نے اس سے دین کا کام لینا ہے اور اس کو ایک علاقہ کا والی بنا کر بھیج دیا، یہ فراست ہوتی ہے۔



















































