*۔۔۔امام ابو یوسفؒ کا قول ہے کہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ایسے خلوص اور محبت سے پیش آؤ کہ دوسرا دیکھے تو سمجھے کہ یہ تمہاری اولاد ہیں، ایک عالم دین کے بیٹے نے ان کے کسی شاگرد کے ساتھ بدتمیزی کی تو انہوں نے غصے میں آ کر فرمایا ’’دیکھو! یہ میرے سینے کی اولاد ہے، جبکہ تم میرے پیشاب کی اولاد ہو۔‘‘*۔۔۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ طلباء سے بہت محبت و الفت سے پیش آتے،
ایک دفعہ مسجد کے صحن میں بیٹھے درس دے رہے تھے کہ اچانک زوردار بارش شروع ہو گئی، طلباء اپنی کتابوں کو پانی میں بھیگنے سے بچانے کے لیے جوتے وہیں چھوڑ کر گھروں کی طرف بھاگ گئے، حضرت گنگوہیؒ نے اپنا رومال بچھایا اور تمام جوتوں کو اس میں رکھ کر گٹھڑی باندھی اور سر پر اٹھا کر اندر لے آئے، طلباء نے دیکھا تو ان کی چیخیں نکل گئیں کہ حضرت ہم خود ہی جوتے اٹھا لیتے آپ نے کیوں ایسا کیا؟ حضرت نے جواب دیا کہ جو لوگ قال اللہ اور قال الرسول پڑھتے ہوں رشید احمد ان کے جوتے نہ اٹھائے تو اور کیا کرے۔*۔۔۔ استاد الکل حضرت مولانا مملوک علیؒ کا یہ حال تھا کہ جب طالب علم بیمار ہوتا تو اس کی قیام گاہ پر جا کر اس کی عیادت کرتے، مختلف طریقوں سے اس کی دلجوئی کرتے، اس زمانے میں دارالاقامہ نہیں بنا تھا اور طلباء مختلف مساجد اور مکانوں میں رہتے تھے۔
کم کھانے کا فائدہ
امام بخاریؒ کو حکیم صاحب نے چیک کرنے کے بعد کہا کہ لگتا ہے کہ اس بندے نے کبھی مرچ کھائی ہی نہیں ہے، امام صاحبؒ سے پوچھا گیا کہ حضرت حکیم صاحب تو کہتے ہیں کہ آپ نے کبھی مرچ کھائی ہی نہیں، فرمانے لگے ہاں پچھلے سولہ سال گزرگئے، میں نے سولہ سال میں کبھی مرچ نہیں کھائی،
انہوں نے پوچھا حضرت پھر کھاتے کیا ہیں؟ فرمانے لگے تین بادام یا سات بادام کھا لیتاہوں، میرا روزانہ کا گزارہ اتنے پر ہی ہو جاتا ہے۔چوبیس گھنٹے میں سات بادام یہ ان کی غذا تھی پھر اللہ کے یہاں قبولیت کیا ہوئی کہ آج بخاری شریف کو پڑھے بغیر کوئی بندہ عالم نہیں بن سکتا، کیا کام کرکے دنیا سے چلے گئے۔
کشادہ دل علماء کے واقعات
(1)۔ حضرت امام شافعیؒ نے ایک بار نمازفجر امام ابو حنیفہؒ کے مقبرہ کے پاس ادا کی اور دعائے قنوت نہ پڑھی جبکہ ان کے نزدیک قنوت نازلہ نماز فجر میں پڑھنا سنت موکدہ ہے، جب اس سلسلہ میں آپ سے پوچھا گیا تو جواب دیا کہ اس کی بارگاہ میں ہوں کیسے اس کی مخالفت کر سکتا ہوں۔(2)۔ حضرت امام مالکؒ نے حدیث و افتاء کی بیش بہا خدمت کی اور موطا امام مالک جیسی گراں قدر کتاب لکھی،
ایک مرتبہ خلیفہ منصور نے اس کتاب کے چند نسخے بنوا کے دوسرے شہروں میں بھیجنے کا ارادہ کیاتاکہ لوگ ایک ہی فقہ پر عمل کریں اور اختلافات ختم ہو جائیں، امام مالکؒ کو معلوم ہوا تو فرمایا ایسا نہ کریں، لوگوں تک بہت سی احادیث اور روایات پہنچ چکی ہیں اور ہر جگہ کے لوگ ان میں سے کچھ اپنا چکے ہیں، جو انہوں نے اختیار کر لیا، اس پر انہیں چھوڑ دیں، آپ کے اس اقدام سے مزید اختلافات بڑھیں گے، خلیفہ منصور نے یہ سن کر کہا: ابو عبداللہ! آپ کو اللہ تعالیٰ اور توفیق دیں۔
امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ
امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ کے فقہی مسائل میں کافی اختلاف تھا، اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کی علمی صلاحیتوں کے معترف رہتے تھے، قاضی عیاش المدارک میں فرماتے ہیں۔’’امام لیث بن سعدؒ نے کہا کہ ایک روز میں نے مدینہ طیبہ میں امام مالکؒ سے ملاقات کی اور کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ امام مالکؒ اپنی پیشانی سے پسینہ پوچھ رہے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں ابو حنیفہؒ سے گفتگو کرکے پسینہ پسینہ ہو گیا، اے مصری! وہ واقعی فقیہ ہیں، اس کے بعد میں نے ابو حنیفہؒ سے ملاقات کی اور کہا کہ امام مالکؒ نے آپ کے متعلق کتنی اچھی بات کی ہے، آپ نے فرمایا کہ صحیح جواب اور بھرپور تنقید میں اس سے تیز خاطر آدمی میں نے نہیں دیکھا۔‘‘



















































