اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

علامہ ابن عقیلؒ کا علمی ولولہ

datetime 17  اپریل‬‮  2017 |

علامہ ابن عقیلؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ اسی سال کی عمر میں ان کو علم حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ بیس سال کے نوجوان ان کے پاس بیٹھ کر شرمندہ ہوا کرتے تھے، وہ کتاب کا مطالعہ کرتے تھے اور روٹی جو آتی تھی اس کو پانی میں بھگو کر رکھ دیتے تھے، تو شاگرد نے پوچھا کہ حضرت! یہ روٹی بھگو کر کیوں کھاتے ہیں،

فرمانے لگے کہ چبانے میں وقت کم لگتا ہے جلدی کھا لیتا ہوں اور کھانے کا وقت بچا کر اس کو بھی مطالعے میں لگا لیتا ہوں، انہوں نے ایک کتاب لکھی الفنون جس کی آٹھ سو جلدیں بنیں، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو قریب طلبہ تھے تو فرمانے لگے کہ میں نے پوری زندگی وعظ و نصیحت میں گزار دی، اب مجھے میرے اللہ کے ساتھ تخلیہ دے دو چنانچہ ان کو بھیج دیا اور وہ ذکر کرتے کرتے اپنے پروردگار کے پاس پہنچ گئے۔
اساتذہ کے ادب کی عجیب مثالیں
(1)۔ ’’شرح الطریقۃ المحمدیۃ‘‘ میں لکھا ہے کہ جس وقت امام حلوانیؒ بخارا سے دوسری جگہ تشریف لے گئے تو امام زرنوجیؒ کے علاوہ اس علاقہ کے تمام شاگرد سفر کرکے ان کی زیارت کو گئے، مدت کے بعد امام زرنوجیؒ سے ملاقات ہوئی توانہوں نے غیر حاضری پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے معذرت پیش کی کہ ماں کی خدمت کی وجہ سے نہیں آ سکا، اس وقت امام حلوانیؒ نے فرمایا کہ آپ کو عمر لمبی نصیب ہو گی، مگر درس نصیب نہیں ہوگا، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔(2)۔ شاہ عبدالرحمن محدث پانی پتیؒ اپنے زمانۂ طالب علمی میں پانی پت سے سہارنپور پہنچے، رخصت ہوتے وقت سب اساتذہ سے اچھی طرح ملے، مگر ایک استاد جن سے ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں ان سے نہ مل سکے،

جب سہارنپور پہنچ کر کتابیں شروع کیں تو سبق شاد کرنے میں مشکل پیش آئی، کئی دن اسی پریشانی میں گزر گئے، ایک دن خیال آیا تو انہوں نے فوراً اپنے استاد کو معذرت لکھ بھیجا، استاد نے جواب میں لکھا کہ جب آپ دوسرے سب اساتذہ سے مل کر گئے اور مجھے نہ ملے تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ شاید آپ مجھے چھوٹا سمجھتے ہوئے نظرانداز کر گئے ہوں، اب آپ کے معذرت نامہ سے مجھے شرح صدر حاصل ہوا،

میں آپ کے لیے دعا گو ہوں، جیسے ہی یہ خط آپ کو ملا آپ کو ذہنی سکون نصیب ہوا، اس کے بعد آپ کو سبق یاد کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔(3)۔ حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ نے علم حدیث کی سند حضرت حاجی محمد افضل صاحبؒ سے حاصل کی تھی، مرزا صاحب نے فرمایا تھا کہ تحصیل علم سے فراغت کے بعد حاجی صاحب نے اپنی کلاہ جو پندرہ برس تک آپ کے عمامہ کے نیچے رہ چکی تھی، مجھے عنایت فرمائی، میں نے رات گرم پانی میں وہ ٹوپی بھگو دی، صبح تک وہ پانی جو املتاس کے شربت سے زیادہ سیاہ ہو گیاتھا، میں اس کو پی گیا، اس پانی کی برکت سے میرا دل ایسا روشن ہو گیا کہ کوئی کتاب مشکل نہ رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…