اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

عمرو بن ہشام کی ایمان سے محرومی

datetime 17  اپریل‬‮  2017 |

عمرو بن ہشام کا شمار مکہ کے انتہائی دانا لوگوں میں ہوتا تھا، اس کو اپنے آپ پر اتنا ناز تھا کہ سیدنا عمر فاروقؓ کا نام بھی عمر تھا، مگر وہ کہتا تھا کہ مجھے عمر کہناچاہیے اور آپ کو اسم تصغیر کا صیغہ استعمال کرنا چاہیے، چنانچہ مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کو ایمان لانے سے پہلے عمیر کہا جاتا تھا، وہ انہیں عمر نہیں کہلوانے دیتا تھا، وہ کہتا تھا کہ عمر میں ہوں،

وہ اتنا دانا تھا کہ جو معاملات لوگوں سے نہیں سمٹتے تھے وہ اکیلا سمیٹ دیتاتھا، اس لیے لوگوں نے اس کا نام ’’اباالحکم‘‘ (داناؤں کاباپ) رکھا اور جب اس نے دین کو قبول نہ کیا تو نبی کریمؐ نے اس کا نام ابوجہل رکھ دیا، یعنی تو جاہلوں کا باپ ہے۔دیکھیں کہ قابلیت اتنی کی وہ قریش کا سردار ہے اس کی پرسنلٹی (شخصیت) کتنی خوبصورت ہے، اس کے مال و دولت ہے، لوگ اس کے اشارے پرناچنے کو تیار ہیں مگر اللہ رب العزت کے یہاں قبولیت حاصل نہ ہوئی اور وہ اس دنیا سے ایمان کے بغیر رخصت ہو گیا۔
استاد سے بھرپور مناسبت پیدا کیجئے
سیدنا عمر بن خطابؓ نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ حضور نبی کریمؐ پر بارش ہو رہی ہے، آپؐ کے جہاں قدم مبارک ہیں وہاں ابوبکر صدیقؓ کا سر ہے، بارش کا جو پانی نبی کریمؐ پر آ رہا ہے وہ سارا کا سارا ابو بکر صدیقؓ پر آ رہا ہے، حضرت عمرؓ نے بھی اپنے آپ کو قریب کھڑے دیکھا، عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر صدیقؓ سے چھینٹیں اڑ کر میرے اوپر پڑ رہے ہیں اور میں بھی بھیگا چلا جا رہا ہوں، صبح اٹھے اور نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، اے اللہ کے محبوبؐ! میں نے رات خواب میں یہ چیزیں دیکھی ہیں، آپؐ نے فرمایا: عمر! یہ علوم نبوت تھے جو بارش کی طرح میرے اوپر برس رہے تھے،

صدیقؓ کو چونکہ میرے ساتھ کمال مناسبت نصیب ہے اس لیے وہ مجھ سے سب سے زیادہ کمالات پا رہے ہیں اور اس کے ساتھ مناسبت کی وجہ سے تم بھی ان علوم کو حاصل کر رہے ہو۔
طلب علم کے ساتھ گھر والوں کا خیال
مفتی محمد شفیع صاحبؒ فرماتے ہیں کہ میں اپنی بستی سے جب دارالعلوم میں پڑھنے کے لیے آتا تو سردی کی راتوں میں امتحان کے قریب ذرا دیر تک پڑھنا ہوتا تھا،

تیاری کرنی ہوتی تھی، جب میں واپس لوٹ کر آتا تو گھر کے سارے لوگ سوئے ہوئے تھے، امی اٹھتی اور اس وقت مجھے کھانا گرم کرکے دیتی تو میں امی کی منت سماجت کرتا کہ آپ کیوں سردیوں میں اٹھتی ہیں؟ بس آپ کھانا رکھ دیا کریں، میں خود ہی آ کے کھا لیا کروں گا، بڑی مشکل سے امی کو میں نے منایا، فرماتے ہیں کہ جب میںآتا تو سالن جمع ہوا ہوتا،

میں اس کے اوپر سے جمی ہوئی تہہ ہٹا دیا کرتا تھا اور ٹھنڈا کھانا کھا کر گزارا کر لیتا، لیکن میں اپنی تعلیم میں حرج نہیں آنے دیتا، اب دیکھو! جن بچوں کے اندر بچپن، لڑکپن سے یوں علم کا شغف ہو، شوق ہو، طلب ہو، احساس ذمہ داری ہو اور وہ علم کی خاطر اس طرح اپنی ضرورتوں کو بھی قربان کریں، یہ وہ بچے ہوتے ہیں جو اپنی جوانی میں آسمان علم پر ستارے بن کر چمکا کرتے ہیں، پھر ایک وقت آیا، اللہ رب العزت نے اس بچے کو مفتی اعظم پاکستان بنادیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…