اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

پھانسی کا پھندا اور حضرت سعیدؒ

datetime 17  اپریل‬‮  2017 |

حضرت سعید بن جبیرؒ بڑے تابعین میں سے ہیں، ان کو حجاج بن یوسف نے گرفتار کرا لیا، اس کوآپ سے مخالفت تھی، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔اس نے آپ کو اپنے سامنے بلایا اور پوچھا: تمہارا نام؟آپ نے فرمایا: سعید بن جبیرؒ اس نے کہا: مجھے تم شقی بن کسیر لگتے ہو۔سعید کے بالمقابل شقی جس کا معنی ہے ’’بدبخت‘‘ اور جبیر کہتے ہیں ’’اصلاح کی ہوئی چیز‘‘ اور کسیر کسر سے ہے جس کا معنی ہے ٹوٹی ہوئی چیز۔

انہوں نے جواب دیا: جس ماں نے میرا نام رکھا وہ مجھے تم سے بہتر جانتی تھی۔حجاج نے کہا: تو بھی بدبخت، تیری ماں بھی بدبخت۔انہوں نے آگے سے جواب دیا: غائب کا علم اللہ کے پاس ہے۔اس نے غصے میں آ کر کہا: میں ابھی تجھے جہنم رسید کرتا ہوں۔تو جواب میں فرمانے لگے: اگر میں تجھے اتنے اختیار والا سمجھتا کہ تو مجھے جہنم میں بھیجنے کے قابل ہے تو میں تجھے سجدہ کرنا شروع کر دیتا۔اس جواب پر وہ بڑا زچ ہوا ،حالانکہ موت کے وقت تو بندے کا گلا ہی خشک ہو جاتا ہے، آواز ہی نہیں نکلتی اور ان کو دیکھیں کہ شیر کی طرح آگے سے گرج کرجواب دے رہے ہیں۔حجاج کہنے لگا: اچھا تو تم کیسے قتل ہونا پسند کرو گے؟جواب میں فرمانے لگے: جیسا آپ خود قتل ہونا پسند کریں گے، میں بھی ویسے ہی پسند کروں گا۔بڑا پریشان ہوا، کہنے لگا: اچھا میں جلاد کو بلاتا ہوں، اس نے جلاد کو بلایا اور کہا کہ اس کو قتل کر دو! تو جیسے انہوں نے سنا تو وہ تیار ہونے لگے۔حجاج نے پوچھا: تمہاری کوئی آخری خواہش اور تمنا؟فرمایا: ہاں! دو رکعت نفل پڑھناچاہتا ہوں۔کہنے لگا: ٹھیک ہے پڑھ لو۔انہوں نے دو رکعت تو پڑھیں مگر بڑی خفیف اور ہلکی، جلدی جلدی مکمل کر لیں۔اس پر حجاج بڑا حیران ہوا اور کہا:

مشہور تو ہے کہ تم بڑی لمبی نماز پڑھتے ہو اور آج تو دو رکعت تم نے بڑی ہلکی پڑھیں، اس کی کیا وجہ؟جواب میں فرمایا: میں نے آج نماز ہلکی اس لیے پڑھی کہ تمہارے دل میں یہ گمان نہ ہو کہ موت کے ڈر کی وجہ سے یہ اپنی نماز لمبی کر رہا ہے، اس لیے مختصر نماز پڑھی۔اس نے کہا: اچھا اس کو لٹاؤ!جب انہوں نے آپ کو لٹایا تو انہوں نے فوراً اپنا چہرہ قبلے کی طرف کیا اور یہ پڑھا:

’’سب سے یکسو ہو کر میں نے اپنے منہ کو اسی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائی‘‘ (انعام 79)اس پر اس کو غصہ آیا اور اس نے کہا کہ اس کا چہرہ قبلے کی طرف سے پھیر دو، تو لوگوں نے ان کا چہرہ قبلے کی طرف سے پھیر کر رخ بدل دیا، تو وہ پڑھنے لگے: ’’پس تم جس طرف بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کا رخ ہے‘‘ (البقرہ 115)اس نے کہا کہ اس کا چہرہ زمین کی طرف کرکے اوندھا لٹا دو،

جب ان کو اوندھا لٹایا تو زمین پر لیٹ کر پڑھنے لگے: ’’اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں لوٹائیں گے اور دوبارہ اسی سے نکالیں گے‘‘ (طٰہٰ 55)جب انہیں شہید کیا گیا تو اتنا خون نکلا اتناخون نکلا کہ جگہ ہی ساری خون سے بھر گئی، لوگ بھی حیران اور حجاج بن یوسف بھی حیران تھا، اس نے اطباء سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ بڑے لوگوں کو قتل کیا گیا مگر بس تھوڑا سا خون نکلتا تھا،

لیکن آج تو اتنا خون نکلا کہ حیران ہیں، اطباء نے جواب دیا کہ علم طب کی رو سے محسوس ہوتا ہے کہ پہلے لوگوں کو جو قتل کیا جاتا تھا، ان کے دل میں موت کا خوف سوار ہوتا تھا، اس خوف کی وجہ سے ان کا خون خشک ہو جاتا تھا تو قتل کرنے کے باوجود تھوڑا سا خون نکلتا تھا، اس بندے کو جو قتل کیا گیا تو لگتا ہے کہ موت کا خوف تھا ہی نہیں، لہٰذا جتنا خون تھا اصل حالت میں باقی رہا اور ان کی شہادت کے بعد سارا خون جسم سے باہر نکلا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ موت کا خوف ان کے دلوں میں تھا ہی نہیں، کیسے لوگ تھے!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…