صلح حدیبیہ جب لکھی گئی تو اس موقع پر سفیر قریش سہیل بن عمروؓ نے جو توہین آمیز رویہ اختیار کیا اس سے تمام صحابہؓ مضطرب اور بے قرار تھے، اس پرمستزادیہ کہ صلح کی جو شرائط تھیں اس سے بظاہر یہ معلوم ہو رہا تھا جیسے دب کر صلح ہو رہی ہو، لہٰذا تمام صحابہ کرامؓ میں غم و اضطراب کی لہر دوڑ گئی، حضرت عمرؓ تو وفور جوش سے ازخود رفتہ ہو گئے اور اسی بے چینی میں دربار نبوت میں حاضر ہوئے اور نبی کریمؐ سے درج ذیل مکالمہ ہوا۔
حضرت عمرؓ: کیا آپؐ اللہ کے نبی برحق نہیں ہیں؟حضرت محمدؐ :ہاںٖ! ہوں!!حضرت عمرؓ: کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں؟حضرت محمدؐ: ہاں، ہیں!حضرت عمرؓ: پھر ہم دین میں ذلت کیوں گوارا کریں؟حضرت محمدؐ: بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا اور وہی میرا ناصر و مددگار ہے۔حضرت عمرؓ: کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے؟حضرت محمدؐ: ہاں! لیکن کیا میں نے تم سے یہ بھی کہا تھا کہ ہم اسی سال کعبتہ اللہ جائیں گے؟حضرت عمرؓ: نہیں یہ تو نہیں فرمایا تھا۔حضرت محمدؐ: بس جب تم بیت اللہ جاؤ گے تو اس کا طواف بھی کرو گے۔اس کے بعد حضرت عمرؓ اٹھ کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس آئے ان کے درمیان یہ مکالمہ ہوا۔ حضرت عمرؓ: ابوبکرؓ کیا آپؐ اللہ کے برحق نبی نہیں؟حضرت ابوبکرؓ: ہاں، ہیں!حضرت عمرؓ: پھر ہم دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟حضرت ابوبکر صدیقؓ: بلاشبہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں اور اپنے رب کی نافرمانی نہیں کر سکتے اور وہی ان کا ناصر و مددگار ہے، پس تم آپؐ کی اطاعت میں مضبوط و ثابت قدم رہو، خدا کی قسم آپ حق پر ہیں۔حضرت عمرؓ: کیا آپؐ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟حضرت ابوبکر صدیقؓ: ہاں لیکن کیا حضورؐ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اسی سال بیت اللہ جائیں گے؟حضرت عمرؓ: نہیں!
حضرت ابوبکرؓ: پس جب تم بیت اللہ جاؤ گے تو اس کا طواف بھی کرو گے۔سبحان اللہ! حضرت عمرؓ کے ہر دو حضرات کے ساتھ مکالمے میں حضرت محمدؐ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی فکر اور سوچ کے ساتھ ساتھ کلمات و الفاظ میں بھی کتنی یکسانیت پائی جاتی ہے۔(2)۔ ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ قلعہ طائف کے محاصرے کے دوران نبی اکرمؐ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے فرمایا کہ
میں نے ایک خواب دیکھا کہ دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ مجھے دیا گیا لیکن ایک مرغ نے آ کر ٹھوکر مار دی اور جو کچھ اس پیالے میں تھا سب گر گیا، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کا ارادہ جو اس قلعہ کے فتح کرنے کا ہے وہ ابھی حاصل نہ ہوگا، حضورؐ نے فرمایا کہ میرے دل میں بھی یہی بات ہے کہ یہ ابھی فتح نہیں ہوگا۔



















































