حضرت عبدالمالک صدیقیؒ شیخ کی طرف سے نسبت ملنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں چنی گوٹھ ریاست بہاولپور میں حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا، حضرت اپنی جماعت کے ہمراہ شہر کے نواح میں تشریف لے گئے، اچانک ان پر نہ جانے کیا کیفیت طاری ہوئی کہ دفعتاً اٹھے اور استغراق کی حالت میں جنگل کی طرف دوڑنے لگے اور ساتھ ہی مجھے آواز بھی دیتے جا رہے تھے،
میں چوں کہ آبادی میں تھا لہٰذا حضرت کے خدام مجھے ڈھونڈنے کے لیے نکلے، میرے ایک پیر بھائی حضرت مولانا عبدالغفار صاحب مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے مجھ تک پہنچے اور کہا کہ جلدی چلو شیخ کی تو یہ حالت ہے، میں جلدی سے شیخ کی خدمت میں پہنچا، حضرتؒ پر ابھی وہی کیفیت طاری تھی میں نے عرض کیا حضرت میں حاضر ہوں، حضرت شیخ نے تبسم فرمایا اور فرمایا کہ آ گئے! میں نے کہا جی حضرت، پھر حضرت نے وضو کیا اور دو رکعت نمازپڑھی اور دعا فرمائی اور اپنے نعلین مبارک میری طرف بڑھائے کہ ان کو پہن لے، میں بے ادبی کے خوف سے ڈرا کہ گندا پاؤں حضرت کے نعلین میں کیسے ڈالوں، حضرت نے تین بار اصرارفرمایا، میں نے دل ہی دل میں دعا کی کہ یا اللہ حضرت شیخ کے قلب میں القا فرما دے کہ میں ان کے فرمان پر گویا کہ عمل کر چکا لیکن عملاً یہ گستاخی نہیں کر سکتا، میری دعا قبول ہوئی، حضرت نے تیسری دفعہ کے بعد دوبارہ اصرار نہ فرمایا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ تیرا پاؤں اور میرا پاؤں برابر ہے، یہ فرماتے ہوئے حضرت نے نعلین پہن لیے۔حضرت عبدالمالک صدیقیؒ فرماتے ہیں کہ میرا ارادہ احمد پور رکنے کا تھا لیکن مجھے محسوس ہوا کہ حضرت مجھے فقیر پور ساتھ لے جانا چاہتے تھے، فرمایا کہ راستے میں بہت سا بوجھ اٹھانا ہے کون ہے جو میرے ساتھ چلے گا؟
میں حیران تھا کہ کون سا ایسا بوجھ ہے جو اٹھانا ہے، بہرحال پوری جماعت میں سے میں نے حاجی کریم بخش اور مولانا عبدالغفار نے ساتھ چلنے کے لیے اپنے نام پیش کیے، راستے میں ایک مقام پرجب کہ حضرت گھوڑے پر سوار تھے اور میں حضرت کے دائیں جانب ساتھ ساتھ چل رہا تھا، حضرت نے مجھ سے پوچھا کہ کون سا سبق کر رہے ہو،
میں نے عرض کیا ’’مراقبہ معیت‘‘ حضرت نے مراقبہ معیت کی کچھ تفصیلات بیان فرمائیں اور مزید فرمایا کہ ولی کی انتہا مراقبہ معیت تک ہے اس سے آگے انبیاء کے مقامات شروع ہوتے ہیں اور پھر دفعتاً مجھے نسبت القا فرمائی، میرے اوپر ایک کیفیت طاری ہوئی جیسے میرے سر پر اور وجودپر بوجھل سامان رکھ دیا گیا ہو، میں گرنے لگا کہ اچانک میرا ہاتھ گھوڑی کی خرجین پر پڑا اور میں لڑھکتا اور گھسٹتا ہوا کافی دور تک چلا گیا پھر میں سنبھل گیا اور چلنے کے قابل ہوا،
میرے بعد حضرت نے بائیں جانب مولانا عبدالغفار اور حاجی کریم بخش صاحب سے ان کے اسباق کے بارے میں پوچھا، ان کے اسباق مجھ سے پیچھے تھے، حضرت نے ان کو بھی نسبت القا فرمائی لیکن ان کی وہ حالت نہ ہوئی جیسے میری ہوئی تھی۔علی پور سے گزر کر ہم حضرت کے مقام فقیر پور شریف پہنچ گئے، حضرت نے اپنے دولت خانے سے دو عمامے لائے اور حاجی کریم بخش صاحب سے فرمایا کہ یہ عمامہ جو میرے ہاتھ میں ہے یہ میرا استعمال شدہ ہے اور دوسرا نیا ہے تمہیں کون سا پسند ہے،
حاجی کریم بخش صاحب نے مستعمل عمامے کو پسند کیا، حضرت نے وہ ان کو دے دیا اورنیا عمامہ مولانا عبدالغفار صاحب کو عطا کر دیا، میرے متعلق فرمایا کہ اس کو میں نعتلین پہلے ہی دے چکا ہوں، اس وقت مجھ پر یہ راز کھلا کہ نعلین مبارک دینے اور جنگل میں دوڑنے کا کیا راز تھا، ایسی کیفیت اس سے قبل نہیں دیکھی تھی، مولوی نور بخش صاحب پر گریہ طاری ہو گیا، میں نے پوچھا: آپ کیوں روتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہم تو جملہ خلفاء تو یوں ہی رہے حضرت نے تمہیں نعلین مبارک عطا فرما دیے اور قدم بقدم چلنے کی سعادت سے مشرف فرمایا۔



















































