حضرت امیر خسرو حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ کے سچے اور پکے مریدوں میں سے تھے، ان کو اپنے شیخ سے انتہا درجے کا عشق تھا، ان کے اسی عشق و محبت کی وجہ سے ان کو اپنے شیخ سے اس قدر اتحاد حاصل ہو چکا تھا کہ شیخ کے دل میں جو بات آتی تھی وہی امیر خسروؒ کے دل میں آ جاتی تھی، حتیٰ کہ اگر خواجہ نظام الدین اولیاء بیمار پڑ جاتے تو اس بیماری کی تکلیف حضرت امیر خسروؒ بھی محسوس کیا کرتے تھے،
ان کی شیخ سے محبت کا ایک عجیب واقعہ ہے۔ایک مرتبہ حضرت امیر خسروؒ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی خانقاہ سے باہر کسی کام سے گئے ہوئے تھے کہ ایک آدمی حضرت کی خدمت میں پہنچا اور ان سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کیا، اللہ والے کسی کو انکار نہیں کیا کرتے، ان کے پاس اور تو کچھ نہیں تھا اسے اپنے جوتے ہی دے دیے وہ جوتے لے کر چل دیا، راستے میں امیر خسرو ملے جو کافی مال و اسباب کے ساتھ واپس آ رہے تھے، دیکھتے ہی پہچان گئے کہ جوتے شیخ کے ہیں، انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ یہ جوتے مجھے دے دو اور ان کی قیمت لے لو، وہ بھی سمجھ گیا کہ کوئی دیوانہ ہے، اس نے اس کی قیمت اتنی لگائی کہ جتنا مال و اسباب ان کے پاس تھا، امیر خسرو نے وہ سارا مال دے دیا اور جوتے لے لیے اور ان کو اپنے سر پر رکھ کر شیخ کی خدمت میں پہنچ گئے، شیخ نے امیر خسرو کو اس حال میں دیکھا تو ان کی محبت نے بھی جوش مارا اور آپ کو سینے سے لگا دیا اور باطنی نسبت القاء کر دی۔
حضرت سید احمد شہیدؒ کی خلافت
حضرت سیداحمد شہیدؒ پہلے شاہ عبدالعزیزؒ سے بیعت ہوئے تھے۔حضرت شاہ صاحب نے ان کو قریب ہی مسجد میں جن میں شاہ صاحب اور طلبہ نماز پڑھتے تھے ٹھہرا دیا اور کہا کہ تعلیم حاصل کرو اور ہمیں آٹھویں روز ملا کرو،
چھ ماہ تک وہ تعلیم حاصل کرتے رہے، چھ ماہ کے بعد حضرت شاہؒ کے خاندان میں کوئی شادی کی تقریب تھی، اس تقریب میں شاہ عبدالعزیز، شاہ عبدالقادر اورشاہ رفیع الدین تینوں بھائی موجود تھے اور شامیانہ لگایا جا رہا تھا، اس جگہ نیم کا ایک درخت تھا جس کی رکاوٹ سے شامیانے میں جھول آ جاتا تھا، اتنے میں سید احمد صاحب بھی تشریف لے آئے،
آپ نے دیکھا تو کرتا کمر سے باندھا اور نیم پر چڑھ گئے اوپر پہنچ کر شامیانے کو کھینچا تو وہ بالکل صحیح تن گیا اور جھول نکل گیا،سید صاحب کی یہ دھج شاہ عبدالقادر صاحب کو پسند آ گئی اور انہوں نے شاہ عبدالعزیز صاحب سے عرض کیا کہ سید احمد کو مجھے دے دیجئے۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ لے جاؤ اور سید صاحب سے کہہ دیا کہ میاں عبدالقادر کے ساتھ جاؤ،
شاہ عبدالقادر صاحبؒ ان کو اپنے پاس اکبری مسجد لے آئے اور ایک حجرہ دے دیا اور کچھ ذکر و اذکار تعلیم کیے اور فرمایا کہ میری سہ دری کے پاس بیٹھ کر ذکر کیا کرو، سید صاحب نے اس حکم کی تعمیل کی اور شاہ عبدالقادرؒ کے حکم کے مطابق ذکر و شغل کرنے میں لگ گئے، جو جگہ شاہ صاحب نے ان کو بتا دی سید صاحب خواہ بارش ہو آندھی یادھوپ برابر اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے اور جب تک شاہ صاحب نہ کہتے اس وقت تک نہ اٹھتے تھے،
شاہ صاحبؒ نے سید صاحب کو ڈھائی برس تک اپنے پاس رکھا اور پھر ان کو لے کر شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ یہ سید احمد صاحب ہیں ان کو پرکھ لیں، شاہ صاحب نے کہا میاں عبدالقادر تم جو کہتے ہو ٹھیک کہتے ہو اب ان کو بعیت کی اجازت دے دو، شاہ عبدالقادر صاحبؒ نے عرض کیا کہ حضرت اجازت انہیں آپ ہی دیں گے اور ان سے آپ کا ہی سلسلہ چلے گا، شاہ صاحب نے ان کو اجازت دے دی۔



















































