کسی جگہ پر ایک کامل بزرگ تھے جن کی خانقاہ پر بہت سے طالب علم اللہ اللہ سیکھنے کے لیے جمع رہتے تھے، ایک مرتبہ ایک شخص کہیں باہر سے ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ میں اپنے نفس کی اصلاح کروانا چاہتا ہوں لہٰذا مجھے بھی اپنے خدام میں شامل فرما لیں اور یہاں قیام کی اجازت مرحمت فرما دیں، انہوں نے اسے بیعت کرکے وہاں رہنے کی اجازت دے دی اور کچھ ذکر و اذکار اور معمولات اس کو بتا دیے،
وہ شخص وہاں رہ کر اصلاح نفس کے کام میں مشغول ہو گیا اور جو کوئی حالت اس کو پیش آتی اس کی اطلاع اپنے شیخ کو کرتا اور جو کچھ وہ تعلیم کرتے اس پر عمل کرتا، تھوڑے ہی دنوں کے بعد ان بزرگ نے اس شخص کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ یہاں قیام سے جو تمہارا مقصود تھا وہ بفضل تعالیٰ تم کو حاصل ہو گیا ہے اب تم کو مزید قیام کی ضرورت باقی نہیں رہی، اس کے بعد اس کو خلعت خلافت سے نوازا اور وطن واپس رخصت کردیا، اب جو دوسرے طالبین کافی عرصے سے وہاں حاضر تھے ان کے دل میں بڑا یہ احساس ہوا کہ ہم جو اتنے سالوں سے یہاں محنت کر رہے ہیں، ہمیں تو اتنا فائدہ نہ ہوا اور اس شخص کو چند ہی روز میں اتنا کچھ مل گیا، معلوم یہ ہوتا ہے کہ شیخ کو ہماری طرف اتنی توجہ نہیں ہے۔شیخ کو کشف سے ان کے وسوسے کی اطلاع ہو گئی اور اس کا جواب انہوں نے بڑے حکیمانہ انداز میں دیا، ایک دن انہوں نے اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ جنگل سے کافی تعداد میں گیلی لکڑی اکٹھی کرکے ہمارے پاس لے آؤ، خدام نے حکم کی بجا آوری کی اور گیلی لکڑیاں اکٹھی کرکے لے آئے، اب شیخ نے حکم دیا کہ ان کوآگ لگاؤ، مریدوں نے آگ لگانے کی کوشش کی، وہ چونکہ گیلی تھیں لہٰذا آگ پکڑتی ہی نہ تھیں، کافی دنوں کی محنت کے بعد ان میں کچھ آگ لگی، اس کے بعد شیخ نے کہا کہ اب خشک لکڑیاں اکٹھی کرکے لے آؤ،
خدام نے تعمیل کی، فرمایا اب ان کو آگ لگاؤ، چنانچہ ان کو بھی جلایا گیا، جیسے دیا سلائی جلا کر رکھی فوراً سب لکڑیوں نے آگ پکڑ لی اور ذرا سی دیر میں سب لکڑیاں جل کر راکھ ہو گئیں، حضرت شیخ نے ان سے دریافت کیا کہ بھئی کیا بات ہے کہ پہلے جو لکڑیاں لائی گئیں ان کو جلانے کے لیے تو اتنی محنت کرنی پڑی اور یہ لکڑیاں ذرا سی دیر میں ہی جل گئیں،
مریدوں نے کہا حضرت پہلی لکڑیاں چونکہ گیلی تھیں اس لیے آگ نہ لگی اور دوسری چونکہ خشک تھیں اس لیے فوراً جل گئیں، شیخ نے فرمایا درست ہے، اس تجربے سے ہمارا مقصد تم کو اصل حقیقت سے آشکار کرنا تھا، فلاں شخص جو کچھ دن ہمارے پاس رہ گیا اللہ نے اس پر فضل فرمایا اور وہ جلد ہی کامیاب ہوکر لوٹ گیا اس پر تمہیں تعجب ہوا کہ وہ کیوں اتنی جلدی نوازا گیا اور ہم محروم ہیں،
تمہیں یہ شبہ ہے کہ ہماری تمہارے اوپر پوری توجہ نہیں ہے، یاد رکھیں تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے ہم کو جیسی توجہ اس کی طرف تھی ویسی ہی تمہاری طرف ہے، وہ جو جلد کامیاب ہو گیا تو اس وجہ سے کہ اس کا حال خشک لکڑی جیسا تھا اور تمہیں دیر لگ رہی ہے تو اس وجہ سے کہ تمہارا حاصل گیلی لکڑیوں جیسا ہے،
وہ جب یہاں آیا توآنے سے پہلے ہی اتنی محنت و مجاہدے کر چکا تھا کہ اس کے نفس کی رطوبات خشک ہو چکی تھیں اور ہماری تعلیمات پکڑنے کی استعداد اس میں پیدا ہو چکی تھی لہٰذا ان رطوبات کو خشک کرنے کے لیے کچھ وقت اور محنت درکار ہے، جیسے ہی تمہارے اندر استعداد پیدا ہو گی وصول ہونے میں دیر نہ لگے گی، لہٰذا اطمینان سے محنت میں لگے رہیں ایک دن آئے گا تمہارے اوپر بھی اللہ کا ایسا ہی فضل ہو جائے گا جیسا کہ اس پر ہوا۔



















































