حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانیؒ کے ایک بھائی نہایت عبادت گزار تھے اور رات دن عبادت میں مشغول رہتے تھے، جب کہ آپ کا بیشتر وقت والدین کی خدمت و اطاعت میں گزرتا تھا، ایک رات جب آپ کے بھائی ذکر و عبادت میں مشغول تھے تو ایک ندا سنی کہ کسی کہنے والے نے کہا ہم نے تمہارے بھائی کی مغفرت کی اوراس کی برکت سے تمہیں بھی بخش دیا،
یہ بھائی بڑے حیران ہوئے کہ ذکر و عبادت میں تو میں ہر وقت مشغول رہتا ہوں، مگر مجھے ابو الحسن کے طفیل بخش دیا گیا، ندا آئی کہ ہمیں تیری عبادت کی حاجت نہیں، بلکہ محتاج ماں کی خدمت کرنے والے کی اطاعت ہمیں مطلوب ہے۔
حِب رسولؐ حضرت اسامہؓ کا ادب
طبقات ابن سعد میں لکھا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ کے عہد خلافت میں کھجور کی قیمت بہت بڑھ گئی، یہاں تک کہ ایک درخت ایک ہزار درہم یا دینار میں بکنے لگا، ایک دن اسامہ بن زیدؓ نے ایک درخت کاٹا، ایک درخت کا تنا کاٹ کر اس کا مغز نکالا، لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا آپ اتنے قیمتی درخت کو کیوں ضائع کر رہے ہیں، حضرت اسامہ نے جواب دیا کہ میری والدہ نے اس کی فرمائش کی ہے اور وہ جس چیز کا حکم دیتی ہے اس کی تعمیل کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔
حضرت بایزیدؒ کو یہ مقام کیسے ملا؟
حضرت سلطان بایزید بسطامیؒ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے جو بھی مراتب عطا کیے وہ میری والدہ کی دعاؤں کے صدقہ عطا کیے، کسی نے پوچھا کہ وہ کیسے؟
فرمایا کہ لڑکپن میں ایک مرتبہ والدہ نے پانی مانگا، جب میں لے کر گیا تو والدہ سو چکی تھیں، میں پیالہ ہاتھ میں لے کر ساری رات کھڑا رہا، سردی اتنی شدید تھی کہ جسم کپکپا رہا تھا، جب والدہ کی آنکھ کھلی اور انہوں نے مجھے یوں کھڑے انتظار کرتے دیکھا تو خوش ہو کر بہت دعائیں دیں، ان دعاؤں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے میرے لیے ولایت کے دروازے کھول دیے۔
احترام والدہ پر صاحب کشف ہو گئے
حضرت مولانا شاہ فضل رحمان گنج مراد آبادیؒ صاحب کرامت بزرگ تھے، جب لڑکپن میں شاہ عبدالعزیزؒ سے پڑھنے آئے تو تھوڑے دن پڑھ کر جانے لگے، حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے پوچھا کہ بھائی اتنی جلدی کیوں؟ مولانا نے عرض کیا کہ والدہ کی اجازت اتنی ہے، والدہ کے ادب ہی نے مولانا کو صاحب کشف بزرگ بنا دیا۔



















































