سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں ’’جب نمازکا وقت آ جاتا تھا، اللہ کے نبیؐ ایسے ہو جاتے تھے کہ وہ ہمیں نہیں پہچانتے تھے اورنہ ہم ان کو جانتے تھے‘‘ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ اذان کی آواز سنی تو اللہ کے محبوبؐ اٹھ کر کھڑے ہو گئے، میں ذرا سامنے آئی تو نبی کریمؐ نے پوچھا: من انت؟ (تو کون ہے؟) میں نے کہا: عائشہ تو نبی کریمؐ نے فرمایا۔ من عائشہ؟ (عائشہ کون؟)۔ میں نے کہا: بنت ابی بکر (ابوبکر کی بیٹی)،
فرمانے لگے: من ابوبکر؟ (ابوبکر کون؟) میں نے کہا ابن ابی قحافہؓ ، فرمانے لگے: من ابو قحافہ؟ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ابو قحافہ کون؟ پھر میں گھبرا گئی کہ نبی کریمؐ اب کسی کو نہیں پہچانیں گے، پیچھے ہٹ گئی، نبی اکرمؐ کی جب کیفیت پھر عام حالت والی ہوئی اور وہ محبت کی کیفیت ذرا کم ہوئی تو فرمایا: عائشہ! لی مع اللہ وقت (میرا اللہ کے ساتھ ایک وقت ہوتا ہے) کوئی نبی مرسل، کوئی اللہ کا فرشتہ اس وقت میرے اور اللہ کے درمیان حائل نہیں ہو سکتا۔۔۔ اس درجہ کی معیت و استحضار اگر حاصل نہیں تو کچھ نہ کچھ معیت ضرور حاصل کریں، البتہ یہ نعمت اہل اللہ کی صحبت سے بہت جلد حاصل ہو جاتی ہے۔
سفر حج میں ہر قدم پر نماز
حضرت ابراہیم بن ادہمؒ نے جب توبہ کی تو یہ بلخ کے بادشاہ تھے، انہوں نے ارادہ کیا کہ میں بیت اللہ شریف کی زیارت کے لیے جاؤں، ہر قدم پر یہ دو رکعت نفل پڑھتے ہوئے وہاں گئے، ایک قدم بڑھاتے مصلیٰ بچھا کر دو رکعت نفل پڑھتے، پھر ایک قدم بڑھاتے اور دو رکعت پڑھتے، ہر ہر قدم پردو دو رکعتیں پڑھتے پڑھتے تقریباً اڑھائی سال میں مکہ مکرمہ پہنچے۔واہ میرے مولا! آپ کی بھی کیا شان ہے اور آپ کے دنیا میں کیسے کیسے چاہنے والے ہیں، وہاں جا کر طواف کیا، مقام ابراہیم پر دو رکعت نفل پڑھ کر یہ دعا مانگی،
اے میرے اللہ! تیرے بندے پاؤں سے چل کر تیرے گھر کی طرف آتے ہیں، میں وہ بندہ ہوں جو پلکوں کے بل چل کر تیرے گھر کی طرف آیا ہوں، اتنے میں رابعہ بصریہؒ بھی آ گئیں۔ ابراہیم بن ادہمؒ نے دیکھا کہ رابعہ بصریہؒ پر اللہ کی خصوصی تجلیات ذاتیہ وارد ہو رہی ہیں، بڑے حیران ہوئے، کہنے لگے! رابعہ ایسامقام تجھے کیسے مل گیا؟ تو رابعہ نے کہا: شور تو آپ نے مچا رکھا ہے کہ ہر ہر قدم پردو رکعت پڑھ کرآئے ہو،
فرق بتاؤں؟ کہنے لگے: بتائیں، کہنے لگیں کہ فرق یہ ہے کہ آپ اس جگہ پر سر نیاز لے کر آئے ہیں اور میں اس جگہ پر دل نیاز لے کر آئی ہوں، میری اس نیاز مندی کو اللہ نے پسند فرما لیا۔۔۔ اللہ والوں کی محبت میں رہنے سے سرنیاز اور دلِ نیاز کا فرق سمجھ میں آئے گا۔اللہ والوں کی صحبت میں رہیں تو عاجز بن کر رہیں، پھر دیکھیں کہ اللہ رب العزت کی کیا رحمتیں آتی ہیں۔



















































