جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا گیا، تو اس آگ کے شعلے اتنے بلند تھے کہ وہ آگ چالیس دن تک جلتی رہی، کوئی آگ کے قریب نہیں جا سکتا تھا، اس وقت ایک چھوٹا سا پرندہ چونچ میں پانی لے جا کر اس آگ کے اوپر ڈالتا تھا، کسی دوسرے پرندے نے اس سے کہا کہ بھئی! تیرے اس پانی ڈالنے لے آگ تو نہیں بجھ سکے گی، کہنے لگا، یہ تو میں بھی جانتا ہوں، آگ نہیں بجھ سکے گی،
لیکن میں نے ابراہیم خلیل اللہ ؑ کی دوستی کا حق ادا کرنا ہے۔۔۔ ہم بھی تھوڑی دیر ذکر ومراقبہ میں بیٹھ کر محبت کا حق ادا کریں۔
حضرت عباسؓ کا پرنالہ
حضرت عباسؓ کے گھر پرنالے کا رخ مسجد نبویؐ کے صحن کی طرف تھا، بارش ہونے کی وجہ سے پرنالے سے پانی مسجد کے صحن میں گرتا اور کیچڑ ہو جاتا تھا جس کی وجہ سے نمازیوں کو تنگی ہوتی تھی، حضرت عمرؓ نے اجتماعی فائدے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پرنالے کو اکھڑوا دیا، حضرت عباسؓ نے ان سے کہا خدا کی قسم نبی کریمؐ نے میرے کندھے پر کھڑے ہو کر لگایا تھا، حضرت عمرؓ نے کہا، خدا کی قسم اس میں شک نہیں، اب تمہیں میرے کندھے پر چڑھ کر اُسے لگانا پڑے گا، چنانچہ حضرت عمرؓ کے کندھے پر چڑھے اور اس کو لگایا، پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ امیرالمومنین ، جن سے دنیا کے بادشاہ ڈرتے اور کانپتے تھے، وہ جا کررکوع کی حالت میں جھکے اور حضرت عباسؓ نے ان کی کمر کے اوپر کھڑے ہو کر وہ پرنالہ لگایا۔



















































