اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

محبت بھی کیسی سمائی تھی

datetime 17  اپریل‬‮  2017 |

حضرت شبلیؒ اللہ کی محبت میں فنا ہو چکے تھے، کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ان کو مجنون سمجھ کر کسی نے پتھر مارا، جس کی وجہ سے خون نکل آیا، ایک آدمی دیکھ رہا تھا، اس نے جب خون نکلتا دیکھا تو کہا کہ چلو میں پٹی باندھ دیتا ہوں، لہٰذا اس نے بچوں کو ڈرایا دھمکایا اور ان کے قریب ہوا، وہ دیکھ کر حیران ہوا کہ جو قطرہ بھی خون کا نکلتا ہے وہ زمین پر گرتے ہی اللہ کا لفظ بن جاتا ہے،

وہ حیران ہوا کہ اس بندے کے رگ و ریشہ میں اللہ تعالیٰ کی کتنی محبت سمائی ہو گئی کہ خون کا جو قطرہ بھی گرتا ہے وہ اللہ کا لفظ بن جاتا ہے، اس کے بعد اس نے زخم پر پٹی باندھ دی۔حضرت شبلیؒ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی اتنی محبت تھی کہ جب کوئی ان کے سامنے اللہ کا نام لیتا تھا تو وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے تھے اور جیب سے مٹھائی نکال کر اس بندے کے منہ میں ڈال دیتے تھے، کسی نے کہا کہ آپ یہ کیا کرتے ہیں کہ لوگوں کے منہ میں مٹھائی ڈالتے ہیں؟ وہ کہنے لگے کہ جس منہ سے میرے محبوب کا نام نکلے میں اس منہ کو شیرینی سے نہ بھر دوں تو پھر اور کیا کروں۔
اپنے یار کو منالیا
نقشبندی سلسلہ کے ایک بزرگ تھے، اللہ کی شان کہ ان پر آخری گھڑیاں آ گئیں، ان کی ایک دو تین سال کی بیٹی تھی جس کا نام حفظہ تھا، وہ اپنے ابو کے پاس آیا کرتی تھی اور سینے پر لیٹ جاتی تھی، کھیلتی تھی، باتیں کرتی تھی، آخری وقت میں جب وہ آئی اور اپنے ابو کے سینے پر لیٹی تو ابو نے اس کو کوئی توجہ نہ دی، وہ بچی تھی ایک دو دفعہ اس نے ابو کو متوجہ کرنے کی کوشش کی جبوہ متوجہ نہ ہوئے تو ان کے سینے سے اتری اور دوسرے کمرے میں جا کر رونا شروع کر دیا، ماں نے پوچھا بیٹی کیوں رو رہی ہے،

اس نے کہا، ابو مجھ سے نہیں بولتے میں نے ابو سے نہیں بولنا، میں نے بھی کٹی کر لی ہے، میں ابو سے نہیں بولوں گی، ماں اس بچی کو لے کر اپنے میاں کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ دیکھیں آپ حفصہ سے کیوں نہیں بولتے؟ حفصہ کہہ رہی ہے میں نے ابو سے نہیں بولنا آپ ذرا بولیں ناں حفصہ کو منا لیں، جب بیوی نے کہا کہ آپ حفصہ کو منا لیں تو انہوں نے آنکھیں کھولیں اور فرمانے لگے، کون سی حفصہ اور کیسی حفصہ؟

ہم نے اپنے یار کو منا لیا اور اسی کو دل میں بسا لیا ہے، یہ کہتے ہوئے لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کلمہ پڑھا اور ان کی روح پرواز کر گئی، یہ اللہ والوں کی زندگی ہوتی ہے، آخری وقت میں بس اللہ کی محبت ان کے دل میں ایسی بھری ہوتی ہے کہ بس غیر کی محبتوں سے دل خالی ہو جاتا ہے، لہٰذا ہر بندۂ خدا کو چاہیے کہ ذکر و فکر اور مراقبہ کے ذریعہ دل کو خدا کے ساتھ اس طرح مربوط کر لے کہ اس شعر کا مصداق بن جائے۔یاد میں تیری سب کو بھلا دوں۔۔کوئی نہ مجھ کو یاد رہے۔۔سب خوشیوں کو آگ لگا دوں۔۔غم سے تیرے دل شاد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…