ایک نوجوان کسی بزرگ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ حضرت مجھے موت سے بہت ڈر لگتا ہے، موت سے بہت خوف آتا ہے، انہوں نے کہا کہ بھئی یہ بتاؤ کہ کیا تمہارے پاس کچھ مال پیسہ ہے، کہنے لگا جی انہوں نے کہا اسے اللہ کے راستے میں خرچ کیا کرو اور نیک اعمال کی پابندی کیا کرو، اس نے کہا بہت اچھا، کچھ عرصہ کے بعد پھر ان کی ملاقات ہوئی، بزرگ نے پوچھا سناؤ بھئی اب طبیعت کیسی ہے،
وہ کہنے لگا کہ حضرت وہ موت سے خوف تو ختم ہو گیا مگر حیران اس بات پر ہوں کہ اب تو میرا مرنے کو جی چاہتا ہے، مگر ایسا کیوں ہوا، تو ان بزرگ نے یہ بات سمجھائی کہ دیکھو بندے کا دل وہیں لگتا ہے جہاں اس کا خزانہ ہوتا ہے، پہلے تم نے اپنے آگے یہ سرمایہ بھیج دیا ہے نیکیوں کا، جو صدقے کا مال ہے، تو جہاں سرمایہ ہوتا ہے بندے کا وہیں جانے کو دل کرتا ہے۔



















































