ایک دفعہ ایک صاحب حضرت عبدالقادر رائپوریؒ کی خدمت میں بیعت کے لیے حاضر ہوئے، ان کی خانقاہ پر کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ ہر وقت ذکر و اذکار نماز تلاوت مراقبات میں مشغول ہیں، یہ منظر دیکھ کر انہوں نے اپنے احباب میں ذکر کیا کہ یہ چکی تو ہم سے نہ پیسی جائے گی، حضرت اس سے مطلع ہو گئے یا کسی نے عرض کر دیا تو ان کی اصلاح کے لیے محفل میں فرمانے لگے کہ دوست یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے حصے کی پریا بنی بنائی رکھی ہے مل جائے گی،
جیب میں ڈال کر واپس آ جائیں گے مگر یہاں بغیر محنت کے کچھ نہیں ہو سکتا، کچھ دنوں کے بعد پھر ان کو اطلاع ملی کہ فلاں صاحب یہاں شب و روز کی محنت کو دیکھ کر گھبراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اتنی محنت کون کرے، آپ نے پھر دوبارہ بڑے جوش سے فرمایا ’’اگر کوئی گھر آپ کو ایسا معلوم ہو جہاں دو روٹیاں پکی پکائی ملی جاتی ہو تو میں بھی ٹوکری پکڑ کر آپ کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں تاکہ کچھ حاصل کر سکوں، دوست بار بار چکی پیسنے کی شکایت کرتے ہیں، میں تو کہتا ہوں کہ چکی پیسنے کا مرحلہ تو بہت دیر کی بات ہے پہلے تو زمین کو جوتنا ہے، اچھا بھلا بیج گھر سے نکال کر کھیت میں بکھیرنا ہے پھر پانی لگانا ہے اور جب پک جائے تو اب کاٹنا ہے، گاہنا ہے اور غلہ بھونسا سے الگ کرنا ہے اس کے بعد چکی پیسنے کی باری آنی ہے، چکی پیس کر آٹا بنانے کے بعد اسے مشقت سے گوندھنا بھی ہے اور پھر اسے پکانے کا انتظام بھی کرنا ہے، پکنے کے بعد اب روٹی کو توڑ کر منہ میں لے جانے اور نکلنے کی مشقت بھی کرنی ہے ان ساری کوششوں کے بعد اگر ہضم ہو جائے تو محض اللہ کا کرم ہے ورنہ قے ہو کر باہر بھی آ سکتا ہے۔کسی دوست نے عرض کیا کہ حضرت ماں بچے پر کتنی شفیق ہوتی ہے کہ سوئے ہوئے بچے کو اٹھا کر دودھ پلاتی ہے، مشائخ تو ماؤں سے بھی زیادہ شفیق ہوتے ہیں ان سے تو اس قسم کی امیدیں باندھی جا سکتی ہں،
اس پر حضرتؒ نے فرمایا کہ بھئی ماں کا کام تو اتنا ہی ہوتا ہے کہ چھاتی بچے کے منہ میں ڈال دے اب اگر بچے میں ہی اتنی اہلیت نہ ہو کہ وہ ہونٹ ہلا کر اسے چوس لے اور اپنے پیٹ میں ڈال لے تو اس میں ماں کا کیا قصور ہے، یا اس کی شفقت میں کیا کمی ہے۔۔۔ اسی طرح اللہ پاک توفیق بھی دیتے ہیں، مگر یہ بندے کا قصور کہ اپنی زبان و دل کو یاد الٰہی میں مشغول نہیں رکھتا۔



















































