حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہم اپنے بڑوں سے ایک لطیفہ سنا کرتے تھے کہ ایک آدمی روشنی میں روپیہ ڈھونڈ رہا ہے تو دوستوں نے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو، کہنے لگا روپیہ ڈھونڈ رہا ہوں، گر گیا تھا، انہوں نے بھی ڈھونڈنا شروع کر دیا، سب مل کر روپیہ ڈھونڈ رہے ہیں ، روپیہ ملتا نہیں، جب تھک ہار چکے تو کسی نے اس سے یہ پوچھا کہ بھائی تمہیں یقین ہے کہ تمہارا روپیہ گرا تھا، اس نے کہا یہ یقین ہے گرا تھا مگر گھر کے اندر گرا تھا، مگر تم تو گھر کے باہر ڈھونڈ رہے ہو، کہنے لگا وہاں اندھیرا تھا،
یہاں روشنی تھی تو میں نے کہا چلو روشنی میں تلاش کرتے ہیں، اب یہ سارے لوگ اس روشنی میں ساری زندگی روپیہ ڈھونڈتے رہے، روپیہ نہیں ملے گا، ہو بہو یہی مثال آج کے انسان کی ہے، اس کی متاع (چین و سکون) جو گم ہوئی وہ من سے تعلق رکھتی ہے اور یہ اس متاع کو باہر کی دنیا میں ڈھونڈتا پھر رہا ہے، اس لیے اس فساد کا حل نظر نہیںآتا، حالانکہ اس کا حل ذکر الٰہی اور محبت خداوندی میں ہے۔ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا۔۔اپنی افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا۔۔جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا۔۔زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا۔



















































