عبداللہ اصطخریؒ ایک اللہ والے بزرگ تھے ذکر و اذکار میں لگے رہتے تھے، ذکر کرتے کرتے جب ان پر فنائیت کی حالت آئی تو ذکر کی مستی ایسی سوار ہوئی کہ اب ذکر چھوڑنے سے بھی نہ چھوٹے، ایسی حالت میں روحانی طور پر تو مزے ہوتے ہیں کہ انسان باطنی ترقی کر رہا ہوتا ہے لیکن جسم پر بوجھ ہوتا ہے کہ جسم ان کیفیات کو برداشت نہیں کرتا، اب وہ بزرگ چاہتے تھے کہ کچھ دیر چھوڑ کر ذرا جسم کو آرام دوں لیکن ذکر سے اب غفلت ہوتی نہ تھی، آخر انہوں نے دھیان ہٹانے کے لیے شکار کا پروگرام بنایا،
اپنے ہمراہیوں کے ساتھ جنگل کو نکلے لیکن شکار میں بھی ذکر کی حالت سے چھٹکارا نہ ملا، اب تو وہ بہت پریشان ہو گئے اور اس پریشانی کی حالت میں ان کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ بڑے عجیب ہیں، فرمایا: اللہ اس شخص کے سب گناہوں کو معاف کر دے جو مجھے ایک لمحہ کے لیے اللہ کے ذکر سے غافل کر دے۔تو فنائیت میں بندے کی یہی حالت ہو جاتی ہے کہ کوشش کرنے سے بھی دل میں غفلت نہیں آتی۔۔۔ لہٰذا ذکر خدا میں فنا ہو جائیے اور اس کا مصداق بن جائیے: نور میں ہو یا نار میں رہنا۔۔ہر دم ذکر یار میں رہنا۔۔چند جھونکے خزاں کے سہ لو۔۔پھر ہمیشہ بہار میں رہنا۔



















































