دورِ صحابہ میں گھروں کے اندر عورتیں دین کی خاطر قربانی دینے کے لیے تڑپتی تھیں، ایک دفعہ نبی کریمؐ نے اعلان فرمایا کہ جہاد کی تیاری کرو، مدینہ طیبہ میں ایک صحابیہ اپنے چھوٹے سے بچے کو گود میں لے کر بیٹھی ہے اور زارو قطار رو رہی ہے، رو کیوں رہی ہے۔۔۔
اس لیے کہ اس کا خاوند پہلے ہی کسی جنگ میں شہید ہو گیا تھا اور گھر میں کوئی مرد نہیں تھا کہ جس کو تیار کرکے محبوبؐ کی معیت میں بھیج سکے، رو رو کر جب طبیعت ہلکی ہو گئی تو اپنے بچے کو اٹھا کر سینے سے لگایا اور نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہو گئی، اے اللہ کے رسولؐ! میرے اس بچے کو جہاد کے لیے قبول فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اتنا چھوٹا بچہ جہاد میں کیسے شریک ہو سکتا ہے، عرض کرنے لگیں: اے اللہ کے محبوبؐ! آپ میرے اس بچے کو ایسے مجاہد کے حوالے کردیجئے کہ جس کے پاس ڈھال نہ ہو، تاکہ جب وہ مجاہد جہاد میں جائے اور سامنے سے دشمن تیروں کی بارش برسائے تو وہ تیروں سے بچنے کے لیے میرے بیٹے کو آگے کر دے میرا معصوم بیٹا تیروں کے روکنے کے کام آ سکتا ہے۔ جس قوم کی عورتوں کی محبت کا یہ عالم ہو اس قوم کے مردوں کا عالم کیا ہو گا۔۔۔!یہ وہ لوگ تھے جن کے قلوب محبت سے امنڈتے تھے، عشق و وفا کی وجہ سے تڑپتے تھے۔



















































